1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوران حاجِچ بھی گرفتار

دی ہیگ میں قائم جنگی جرائم کی بین الاقوامی عدالت کو مطلوب سربیا کے آخری مفرور جنگی مجرم گوران حاجِچ کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سربیا کے صدر نے حاجِچ کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔

default

گوران حاجِچ: فائل فوٹو

سن 1990کی دہائی میں کروشیائی جنگ کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والے سیاستدان گوران حاجِچ کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان صدر بورس ٹاڈچ کی جانب سے کیا گیا۔ اس سلسلے میں صدر کی جانب سے ایک ہنگامی پریس کانفرنس طلب کی گئی تھی۔ حاجِچ کی گرفتاری کی بلغراد حکام نے تصدیق ضرور کی ہے لیکن اس مناسبت سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔ اس طرح اقوام متحدہ کی جانب سے قائم جنگی جرائم کی عدالت کو مطلوب سربیائی جنگ کا آخری مطلوب مفرور سیاستدان بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔

گوران حاجِچ پر الزام ہے کہ سن 1991 سے 95 کے دوران اس نے کروشیا کے علاقے سے کروشیائی اور غیر سرب آبادی کی ہلاکت کے علاوہ ان کی زبردستی منتقلی کا حکم بھی دیا تھا۔ گزشتہ برسوں میں حاجِچ کی گرفتاری کو بڑے مطلوب افراد راڈوان کاراجچ اور راتکو ملاڈچ کی وجہ سے اہمیت نہیں دی گئی تھی۔ سابقہ یوگوسلاویہ کی جنگ میں مطلوب حاجِچ کئی برسوں سے انصاف کے کٹہرے تک پہنچائے جانے سے بچتا رہا۔

NO FLASH Goran Hadzic Serbien Kriegsverbrecher

گوران حاجِچ کو بھی اب دی ہیگ منتل کردیا جائے گا

یورپی پارلیمنٹ کے رکن Anna Maria Corazza Bildt نے حاجِچ کی گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ بقیہ تمام مطلوب افراد میں شخصیت اور رویوں کے اعتبار سے انتہائی محتاط اور ہوشیار تصور کیا جاتا ہے۔ رکن پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھا کہ حاجِچ اپنی سرگرمیوں اور اپنی منتقلی کو بھی بہت سوچ سمجھ پلان کرتا تھا۔ انا ماریا اس دور میں کروشیا میں اقوام متحدہ کی فوج کے ہمراہ تھیں، جب گوران حاجِچ علاقائی لیڈر تھا۔

یورپی یونین نے بھی راتکو ملاڈچ کی گرفتاری کے بعد بلغراد حکومت کے یورپی یونین میں شمولیت کے سلسلے میں مزید پیش رفت میں مفرور گوران حاجِچ کی حراست کے مطالبے کو دہرایا تھا۔

گوران حاجِچ کا قد چھ فٹ سے زائد ہے اور وہ اپنی گھنی سیاہ داڑھی کی وجہ سے انتہائی رعب دار شخصیت کا حامل ہے۔ وہ سن 2004 کے وسط تک سربیا کے شہر Novi Sad میں کھلے عام رہائش پذیر تھا۔ جنگی جرائم کی عدالت سے وارنٹ گرفتاری کے اجراء کے بعد وہ روپوش ہو گیا تھا۔ اس کے جرائم کی دنیا سے بھی رابطے بیان کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس