1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گودھرا کیس: گیارہ افراد کو سزائے موت

بھارت کی ایک عدالت نے منگل کے روز سن دو ہزار دو کے گودھرا کیس میں گیارہ افراد کو سزائے موت اور بیس کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔ ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ہندو یاتریوں سے بھری ایک ٹرین کو نذرِ آتش کیا تھا۔

default

فروری دو ہزار دو میں ہندو یاتریوں سے بھری اس ٹرین کو آگ لگا دی گئی تھی

مغربی بھارتی ریاست گجرات کی ایک عدالت نے اکتیس مسلمان شہریوں کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ افراد سن دو ہزار دو میں ہندو یاتریوں کی ریل گاڑی کو آگ لگانے میں بالواسطہ ملوّث تھے اور انہوں نے اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی بھی کی تھی۔
Narendra Modi

ریاست گجرات کے وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی

واضح رہے کہ گودھرا میں ہونے والے اس واقعے کے نتیجے میں گجرات کی ریاست ہندو مسلم فسادات کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔ ہندوستان کی تاریخ میں یہ انیس سو ستاون کی تقسیم کے بعد سب سے خوں ریز اور جان لیوا دن تھے، جس نے بھارت کی سیکیولر ریاست کو بری طرح جھنجوڑ کے رکھ دیا تھا۔

منگل کو احمد آباد کی عدالت میں ہونے والی سماعت کے وقت چورانوے افراد پیش ہوئے۔ یہ تمام کے تمام مسلمان تھے۔ ان میں سے تریسٹھ افراد کو عدالت نے بری کر دیا۔

عدالتی فیصلے سے ریاست کے ہندو گروپس کے اس الزام کی تصدیق ہوئی ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اجودھیا سے واپس لوٹنے والے ہندوؤں کی ٹرین کو مسلمانوں نے دانستہ آگ لگائی تھی۔ اس سے قبل قومی سطح پر کی جانے والی ایک تفتیش کے مطابق ٹرین میں آگ حادثاتی طور پر لگی تھی۔

Wahlkampagne der BJP Bharatiy Janta Partei

بی جے پی پر گجرات میں مسلمانوں کے قتلِ عام میں ملوّث ہونے کا الزام ہے

عدالتی فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر احمد آباد میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے۔ خدشہ تھا کہ فیصلے کے بعد کہیں مذہبی فسادات نہ پھوٹ پڑیں تاہم کسی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔

گجرات کی مسلمان تنظیمیں ریل کو آگ لگانے کے واقعے کی ہمیشہ نفی کرتی رہی ہیں۔ واقعے کے اہم ملزم مولوی عمرجی کو عدالت نے گزشتہ ہفتے بری کر دیا تھا۔

اس وقت اور آج کے ریاستی وزیرِ اعلیٰ نریندر مودی پر ملک کے سیکیولر حلقے، جن میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں، الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ گودھرا واقعے کے بعد ہونے والے فسادات میں مسلمانوں کے قتلِ عام کو روکنے میں انہوں نے دانستہ غفلت سے کام لیا۔ مودی بھارتیہ جنتا پارٹی کے اہم رکن اور بعض مبصرین کے اندازے کے مطابق اگلے انتخابات میں اپنی جماعت کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار بھی ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM