1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گوتم بدھ کا مجسمہ، دوبارہ تعمیر ممکن

جرمن سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں بدھا کے تباہ کیے جانے والے دو مجسموں میں سے ایک کی دوبارہ تعمیر ممکن ہے۔ وسطی افغانستان کے یہ دونوں بڑے مجسمے پندرہ سو سال پرانے تھے۔

default

افغانستان میں طالبان عسکریت پسندوں نے دس برس قبل گوتم بدھ کے دومجسموں کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تھا۔ میونخ ٹیکنیکل یونیورسٹی کے پروفیسر Erwin Emmerling نےکہا ہے کہ صوبے بامیان میں بدھا کے دو میں سے ایک مجسمےکو دوبارہ جوڑا جا سکتا ہے۔ بامیان کے یہ مجسمے 180فٹ اونچے تھے۔

Zerstörte Buddhafigur in Bamiyan in Afghanistan

طالبان عسکریت پسندوں نے دس برس قبل گوتم بدھ کے دومجسموں کو بارودی مواد سے تباہ کر دیا تھا

میونخ یونیورسٹی کے پروفیسر کئی برسوں سے ان مجسموں پر تحقیق کر رہے ہیں۔ افغان جنگ سے قبل عالمی احتجاج کے باوجود طالبان نے ان مجسموں کو تباہ کر دیا گیا تھا۔ جرمن سائنسدان دوہزار سات کے بعد افغان ضلع بامیان کے پندرہ دورے کر چکے ہیں۔ ایروِن ایمرلینگ بدھ کو اپنی تحقیق کے نتائج فرانس میں ہونے والی یونیسکو کی کانفرنس میں بتائیں گے۔

بامیان دراصل زمانہ قدیم میں بدھ مذہب کی ایک مشہور عبادت گاہ تھی اور اسی عبادت گاہ کے نام سے یہ علاقہ منسوب ہے۔ بامیان شہر کے مضافات میں بدھا کے کئی دیو ہیکل مجسمے نصب ہیں، جن کو پتھر تراش کر بنایا گیا تھا۔ ان میں سے دو مشہور بدھا کے مجسمے تھے، جس کو بامیان کے بدھا کہا جاتا تھا۔

یہ مجسمے دنیا میں اپنی نوعیت کے دیو قامت مجسمے تھے اور یہ یونیسکو کی عالمی ورثہ کی فہرست میں بھی شامل ہیں۔ مارچ 2001ء میں طالبان کی حکومت نے ان کو بت پرستی کی نشانی قرار دیتے ہوں تباہ کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ طیارہ شکن توپوں اور بارود کی مدد سے ان مجسموں کو سرکاری حکم کے تحت تباہ کردیا گیا تھا۔

عالمی ادارہ برائے یادگار نے یہاں موجود بدھ آثارکو 2008ء میں دنیا کے انتہائی خطرے سے دوچار یادگاروں کی فہرست میں شامل کیا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM