1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گوبر سے توانائی کا حصول، پنجاب کے کسان خوش

صوبہ پنجاب میں واقع فتح جنگ کے کسان مجاہد عباسی نے اپنی زرعی اراضی کی آبیاری کی خاطر جب سے اپنی ٹیوب کو ڈیزل سے بائیو گیس ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے، تب سے اسے مالی فائدہ ہو رہا ہے۔

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے چھبیس میل دور واقع فتح جنگ کے ایک گاؤں کے کسان مجاہد عباسی کا کہنا ہے کہ توانائی کے متبادل استعمال کی وجہ سے وہ بہت خوش ہے کیونکہ اس سے اس کی اقتصادی خوشحالی میں اضافہ ہوا ہے۔ صوبہ پنجاب کی حکومت نے ایک پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر کسانوں کو بائیو گیس کی تیاری کے آلات رعایتی نرخوں پر دستیاب بنائے ہیں۔ مجاہد عباسی نے اسی حکومتی اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کی ہے۔

DW.COM

مجاہد عباسی کے پاس تیس بھینسیں ہیں، جن کے گوبر سے وہ یومیہ تقریبا چالیس کیوبک میٹر گیس پیدا کرتا ہے۔ یہی گیس یومیہ بنیادوں پر نہ صرف آبپاشی کے لیے اس کے ٹیوب ویل کو چھ گھنٹوں کو چلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے بلکہ اس سے اس کے گھر میں چولہا بھی جلتا ہے۔

پانچ بچوں کے باپ مجاہد عباسی کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے وہ ڈیزل پر رقوم خرچ کرنے سے بچ گیا ہے اور یوں وہ گزشتہ تیرہ مہینوں سے روزانہ ہی دس تا بارہ امریکی ڈالر کی بچت کر رہا ہے۔ اس نے اپنی اس بچت سے اضافی پانچ ہیکٹر اراضی پر موسمی سبزیوں کی کاشت کا کام شروع کر دیا ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک طویل عرصے سے رقوم کی کمی کی وجہ سے وہ اپنی اس زمین پر کاشت کاری سے محروم تھا۔

عباسی نے مارچ سن 2015 میں بائیو گیس کا پلانٹ نصب کیا تھا، تب سے آج تک اس نے پھر ڈیزل نہیں خریدا۔ اب وہ اپنی ٹیوب ویلوں کو بائیو گیس سے ہی چلا رہا ہے۔ اس نے بتایا، ’’یہ کمال کی بچت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ میری سالانہ انکم میں ایک ہزار ایک سو پچاس امریکی ڈالر کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس طریقہ کار کی وجہ سے میرے کنبے کی اقتصادی حالت بہت زیادہ بہتر ہو گئی ہے۔‘‘

چھوٹے کسانوں کے لیے حکومتی مراعات

فتح جنگ میں بیس دیگر کسان بھی اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ سبزیوں کی کاشت کرنے والے کسان نعیم رضا شاہ کے مطابق وہ اپنی انیس ہیکٹر اراضی پر کاشت کے لیے بائیو گیس کی پروڈکشن سے بچ جانے والی کھاد کو استعمال میں لاتا ہے۔ یوں وہ اس مقصد کے لیے کیمیکل کھاد کی خرید سے بچ گیا ہے۔ قبل ازیں وہ سالانہ ساڑھے آٹھ سو ڈالر کی کیمیکل کھاد خریدتا تھا۔ ٹامس روئٹرز فاؤنڈیشن سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ نے بتایا، ’’بائیو گیس سے پیدا ہونے والی نامیاتی کھاد میرے لیے ایک اقتصادی طور پر ایک رحمت ہے۔‘‘

Indien Kuhfladen Biogas Neu Delhi

اس منصوبے کا مقصد ڈیزل پر انحصار کم کرنا تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی بائیو کھاد کے استعمال کو فروغ دینا بھی ہے

مجاہد عباسی اور نعیم رضا ان سترہ ہزار دیگر افراد میں شامل ہیں، جو اس حکومتی اسکیم سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کا منصوبہ ہے کہ سن 2017 تک صوبے بھر میں ایک لاکھ ٹیوب ویلوں کو ڈیزل سے بائیو گیس ٹیکنالوجی پر منتقل کر دیا جائے۔ اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے صوبائی حکومت نے 67 ملین ڈالر کی رقم مختص کی ہے۔

پنجاب کے وزیر زراعت فرخ جاوید کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد ڈیزل پر انحصار کم کرنا تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی بائیو کھاد کے استعمال کو فروغ دینا بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوں زیر زمین پانی کیمیکل کھادوں کی وجہ سے آلودہ ہونے سے بھی بچ جائے گا۔ ایک ٹیوب کو ڈیزل سے بائیو گیس پر منتقل کرنے کے لیے دو تا چار لاکھ روپے کی لاگت آتی ہے۔ پنجاب حکومت اس منصوبے کے تحت کسانوں کو اس ٹیکنالوجی پر اٹھنے والی نصف رقوم فراہم کر رہی ہے۔

اس اسکیم میں ایسے کسانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے، جن کے پاس کم زمینیں ہیں اور کاشت کاری میں مشکلات کا سامنا بھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سالانہ 288 ملین لیٹر ڈیزل کے استعمال کو ترک کیا جا سکے گا، جس پر سالانہ تیس بلین روپے خرچ ہوتے ہیں۔ یوں ماحولیاتی آلودگی سے بھی بچا جا سکے گا۔