1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گوا میں خواتین پوٹروں کے لیے کام کے مواقع میں کمی

گوا کے تجارتی مرکز سے کچھ 30 کلو میڑ دور جنوبی دارالحکومت Panaji میں سامان اٹھانے والوں کو پہلے ’’بھادیلز‘‘ کہا جاتا تھا۔ تاہم اب یہ پیشہ دم توڑتا جا رہا ہے۔ بھادیلز کے معنی ہیں’’ کرائے کے لیے‘‘

default

مون سون بارشوں کی ایک صبح 70 سالہ جوکوئنا کولاکو ہاتھ میں چھتری پکڑے ہوئے پورا دن کام کرنے کی اُمید دل میں لیے ہوئے بھارت کی ریاست گوا کے پُرہجوم بازار مارگاؤ سے ہوتے ہوئے کارپینٹر کی دکان کے ساتھ بیٹھ گئی۔ وہ انتظار گاہکوں کا انتظار کرنے لگی، جو اس سے اپنا سامان لے جانے کے لیے’’ قلی‘‘ کے طور پر کام لیں۔

ان کا اغاز 18 ویں صدی میں ہوا تھا، جب گوا پرتگالا کی نوآبادی تھی۔ اس وقت سامان اٹھانے کے لیے لوگوں کی ضرورت ہوتی تھی۔کولاکو کا کہنا ہے ان دنوں ان کے پاس زیادہ کام نہیں۔ مرد قلی زیادہ مضبوط ہیں اور کم پیسوں میں کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ایک اور پورٹر ’’البرٹینا فرنینڈس‘‘نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کبھی کبھی مرد تو ناریل کی شراب کے ایک جام کے بدلے مفت میں کام کرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔

1990ء کی دہائی میں جب 760 کلو میٹر لمبی کونکن ریلوے لاین بچھائی گئی تو خواتین پورٹروں کے لیے کام کے مواقع ختم ہو گئے۔

یہ ریلوے لائن اس علاقے کو بھارت کے مالیاتی اور تفریحی شہر ممبئی سے جوڑتی ہے۔ اس کی وجہ سے کیرالہ اور کرناٹک سے نوجوان کام کرنے والے اس علاقے میں پہنچنے لگے۔

دھیرے دھیرے وہاں سامان کی نقل و حمل کے گا ڑیوں کا استعمال بھی بڑھنے لگا، جس سے خواتین پوٹروں کے لیے کام کے مواقع مزید کم ہو گئے۔ کولاکو کا کہنا ہے کہ وہ اس پیشےسے وابستہ افراد کی طلب میں کمی کے باعث وہ اسے اپنی آئندہ نسل تک منتقل نہیں کر سکتی۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: ندیم گِل

DW.COM