1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتا نامو بے جیل میں طبی تجربات کا انکشاف

گوانتانامو کے بدنام زمانہ امریکی قید خانے میں چار برس تک قید رہنے والے ایک ترک نژاد جرمن باشندے نے انکشاف کیا ہے کہ وہاں امریکی فوجی قیدیوں پر باقاعدگی کے ساتھ طبی تجربات کرتے تھے۔

default

یہ انکشاف ایک امریکی ویب سائٹ پہلے بھی کر چکی ہے۔ مُراد کرناز نامی سابقہ قیدی نے بتایا ہے کہ امریکی فوجی اسے اور وہاں قید دیگر افراد کو ادویات کے ذریعے تشدد کا نشانہ بناتے تھے۔ Murat Kurnaz نے ایک جرمن اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسے اس کی مرضی کے بغیر ہر ماہ ہی کئی مرتبہ زبردستی ادویات دی جاتی تھیں۔

کرناز کو 2006ء میں رہا کر دیا گیا تھا اور تب سے ہی وہ جرمنی میں آباد ہے۔ روزنامہ Berliner Zeitung سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اسے باقاعدگی کے ساتھ انجیکشن دیے جاتے تھے اور یہ بھی نہیں بتایا جاتا کہ وہ کس مقصد کے لیے ہیں،’ میں حقیقی طور پر بہت برا محسوس کرتا تھا‘۔

Murat Kurnaz in Brüssel vor EU Kommission

کرناز کو 2006ء میں رہا کر دیا گیا تھا

کرناز نے بتایا کہ اگرچہ عقوبت خانے میں ملیریا کا کوئی خطرہ نہیں تھا تاہم پھر بھی اینٹی ملیریا گولیاں کھانے کے لیے دی جاتی تھیں، جس سےکرناز تھکا ہوا محسوس کرتے تھے اور کبھی کبھار ان کی سانس بھی اکھڑ جاتی تھی۔ انہوں نے دعوی کیا کہ وہاں کے کچھ قیدی تو ان ادویات کی وجہ سے موٹاپے کا شکار ہو گئے۔

کرنازکےبقول تمام قیدی یہ سمجھتے تھے کہ جو بھی نئی دوائی تیار کی جاتی ہے، ان کا ٹیسٹ ان پر کیا جاتا ہے۔

گزشتہ برس دسمبر میں ایک امریکی ادارے Truthhout نے گوانتا نامو میں خود کشی کرنے والے تین افراد کے بارے میں معلومات جاری کی تھیں۔ اس ادارے نے دعوی کیا تھا کہ وہ تینوں اینٹی ملیریا دوا mefloquine کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہلاک ہوئے تھے۔

مُراد کرناز کے وکیل نے بھی کہا ہے کہ اس کے موکل میں mefloquine کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی وجہ سے کئی جسمانی خرابیاں پیدا ہوئی ہیں۔ بیرنہارڈ ڈوکے نے جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کرناز میں قریب وہ تمام علامات پائی جاتی ہیں، جو اس دوا کے زیادہ استعمال کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اس دوا کی زیادہ استعمال سے بے خوابی،ڈپریشن، التباسات اور دیگر نفسیاتی عارضے لاحق ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات