1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو کیمپ میں یمنی قیدی کی خود کشی

منگل کے روز جاری کئے گئے ایک بیان میں ایک امریکی فوجی ترجمان نے کہا کہ گوانتا نامو کے حراستی مرکز میں ایک یمنی قیدی نے خودکشی کر لی ہے۔

default

گوانتانامو کے حوالے سے انسانی حقوق کی تنظیمیں ایک عرصے سے سراپا احتجاج ہیں

رواں برس جنوری میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے والے باراک اوباما کے دور حکومت میں گوانتانامو کے کسی قیدی کی موت کا یہ پہلا واقعہ ہے۔ باراک اوباما نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اس جیل کو 2010 تک بند کرنے کی ہدایات جاری کر دی تھیں۔

امریکی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ 31 سالہ یمنی قیدی محمد احمد عبداللہ صالح نے جو الحناشی کے نام سے بھی جانے جاتے تھے، پیر کی رات خودکشی کی۔ تاہم فوجی ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ یہ قیدی کس طرح اور کن حالات میں خودکشی کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

Barack Obama

امریکی صدر باراک اوباما نے عہدہ سنبھالتے ہی اس حراستی مرکز کی بندش کا اعلان کیا تھا

اس واقعے سے قبل بھی اس حراستی مرکز میں پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے چار نے خودکشی کر لی تھی جب کہ ایک شخص اپنی طبعی موت مر گیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق گوانتا نامو کے حراستی مرکز میں اب بھی 239 قیدی موجود ہیں۔ ان میں یمن سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کی تعداد ایک سو تک بتائی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں گوانتانامو کے حراستی کیمپ پر پہلے ہی شدید تنقید کرتی رہی ہیں۔ ان تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ کیوبا کے جزیرے پر قائم اس جیل میں دہشت گردی کے شبے میں زیر حراست غیر ملکیوں کو غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

امریکی فوج کے مطابق نیول کریمنل انویسٹی گیشن سروس نے خود کشی کے اس نئے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ اس چھان بین کے نتیجے میں یہ طے ہو سکے گا کہ اس یمنی قیدی کی موت کی وجوہات کیا رہیں اور اس نے خود کشی کن حالات میں کی۔

یمن سے تعلق رکھنے والے قیدی محمد احمد عبداللہ صالح کو 2002 میں گوانتانامو جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ماضی میں یہ قیدی اسی کیمپ میں حراست کے دوران کئی بار احتجاجی بھوک ہڑتالیں بھی کر چکا تھا۔