1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو میں بند قیدیوں کے حقوق کا متنازعہ معاملہ

گوانتانامو ميں تقريباً دو سو ستّر قيدی اب بھی بند ہيں۔ ان ميں سے بہت سے اب سول عدالتوں ميں اپنی گرفتاری کے خلاف اپيليں دائر کر رہے ہيں۔

default

گوانتانامو میں بند ایک قیدی نے شناخت چھپانے کی غرض سے اپنے چہرے پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے ہیں

امريکہ کی سپريم کورٹ کے ایک اہم فيصلے کے بعد ایک دائر کردہ اپيل کا فيصلہ سنايا بھی جا چکا ہےاور ﺍس کے مطابق ملزم کے خلاف شواہد ﺍس قدر نا کافی تھے کہ اس کی گرفتاری کا کوئی جواز ہی پيدا نہيں ہو تا ہے۔

USA Kuba Guantanamo Oberster Gerichtshof

امریکی سپریم کورٹ نے ابھی جون میں یہ فیصلہ دیا کہ گوانتانامو بے میں بند قیدیوں کو اپنی گرفتاری کے خلاف امریکی سول عدالتوں میں اپیل دائر کرنے کا حق حاصل ہے

بش حکومت يمن سے مذاکرات کر رہی ہے اور ا س نے وزارت دفاع ميں وکيلوں ميں اضافہ کر ديا ہے۔ وہ ﺍس مشکل سے نکلنے کی راہ ڈھونڈ رہی ہے۔

حکومتی ترجمان Dana Perino نے بش حکومت کے بھيانک خواب کو ﺍن الفاظ ميں بيان کيا: 'مجھے يقين ہے کہ يہ کوئی بھی نہيں چاہے گا کہ خالد شيخ پڑوس ميں آزاد پھر رہا ہو'۔

امریکی صدر کی ترجمان نے ايک خوفناک منظرکشی کی ہے۔ يعنی خود دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کرنے والا خالد شيخ امريکہ ميں ايک ازاد شخص کی حيثيت سے۔ ايسا ہو نہيں سکتا کيونکہ خا لد شيخ نے اقبال جرم کر ليا ہے۔ ليکن امريکی حکومت نے خطرے کی گھنٹی بجانا شروع کر دی ہے کيونکہ اسے يہ خدشہ ہے کہ امريکی سول عدالتيں ثبوت ناکافی ہونے کی وجہ سے دہشت گردی کے مشتبہ افراد کو گوانتانامو کی جيل سے رہا کرنا شروع کر دے گی اور پھر وہ امريکہ کی سرزمين پر آزاد پھر رہے ہوں گے۔

Chalid Scheich Mohammed Terrorist Guantanamo

گیارہ ستمبر کے حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد بھی گوانتانامو میں قید ہیں

گوانتانامو ميں تقریباً دو سو ستر افراد کو قيد رکھا گيا۔ ان ميں سے جن پر واقعی جرم کا الزام لگايا گيا ان کے نام انگليوں پر گنے جا سکتے ہيں۔ لنکن وائٹ ہاوٴس ميں اسے دوسری نظر سے ديکھا جاتاہے۔گوانتانامو کے اسّی قيديوں پر فوجی عدالت ميں مقدمہ چلايا جاناچاہئے۔ پينسٹھ کو ان کے ملکوں ميں واپس بھيج ديا جائے گا۔ تقريبا ايک سو بيس باقی بچيں گے جنھيں امريکی حکومت انتہائی خطرناک سمجھتی ہے ليکن ان کے خلاف اس کے پاس کافی ثبوت معلوم نہيں ہو تے۔

حکومتی ترجمان Dana Perino نے کہا کے اب تک کے تجربے سے يہ ظاہر ہوتا ہے کہ بش حکومت کے تفکرات بے بنياد نہيں ہيں: 'بعض قيديوں کو رہا کر ديا گيا۔ ا ن میں سے کچھ ميدان جنگ ميں واپس پہنچ چکے ہيں۔ بعض خودکش حملہ آور بن چکے ہیں۔ اس لئے قيدنوں کے بارے ميں فيصلہ کرتے وقت بہت احتياط کی ضرورت ہے۔'

يہ بات متنازعہ ہے۔ حقوق انسانی کے حاميوں اور قيديوں کے وکلاء کا کہناہےکہ بش حکومت جان بوجھ کر اعدادوشمار میں مبالغہ آرائی کر رہی ہے۔ وہ خوف پيدا کرنا چاہتی ہے۔ قانونی امور کے ماہر Charles Simpson نے کہا کے اس کے لئے نئے قانون کی ضرورت ہے ليکن امريکہ ميں انتخاباتی مہم جاری ہے۔ سينيٹ اور کانگريس ميں اکثريت والے ڈيموکريٹ چاہتے ہيں کہ بش اپنی پاليسی کا خميازہ اب خود ہی بھگتيں۔

DW.COM