1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو سے بن لادن کے سابق محافظ کی رہائی

کیوبا میں قائم امریکی حراستی مرکز گوانتانامو سے قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ جاری ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور اور محافظ عبدالشلبی کو بھی رہا کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق امریکی حکام نے دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے سابق ڈرائیور اور محافظ کو رہا کرنے کی تصدیق منگل کی شب کی۔ امریکی محکمہ دفاع کے مطابق عبدالشلبی کو سعودی عرب کے حوالے کیا گیا ہے، جہاں کے وہ شہری ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ عبدالشلبی کی رہائی اس یقین دہانی کے بعد عمل میں آئی کہ وہ اب امریکی سلامتی کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اس رہائی کے بعد اب گوانتانامو میں مقید افراد کی تعداد 114 ہے اور ان میں 52 ایسے ہیں، جنہیں کسی وقت بھی رہا کیا جا سکتا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 39 سالہ عبدالشلبی ان افراد میں شامل تھے، جنہیں سب سے پہلے یعنی جنوری 2002 ء میں گوانتانامو منتقل کیا گیا تھا۔ امریکی حکام کا دعوٰی ہے کہ عبدالشلبی اسامہ بن لادن کا محافظ ہونے کے ساتھ ساتھ القاعدہ کے دیگر اہم رہنماؤں کے ساتھ بھی رابطہ میں تھا۔ الشلبی کو2001ء میں پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔

امریکی صدر باراک اوباما نے اقتدار میں آتے ہی اس متنازعہ قید خانے کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ریپبلکنز کی جانب سے شدید مزاحمت کے وجہ سے وہ ابھی تک اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکے ہیں۔ کیوبا کے ایک جزیرے پر امریکی نیوی کی چھاؤنی میں یہ مرکز 2002ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکا پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد اتحادی افواج نے افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف کارروائی شروع کی تھی۔

گوانتانامو کے قیام کا مقصد تھا کہ مبینہ دہشت گردوں کو جنگی قیدی قرار دیے بغیر اس حراستی مرکز منتقل کر دیا جائے۔ اس دوران شاید ہی کسی قیدی پر فرد جرم عائد کی گئی اور شاذ و نادر ہی کسی کے خلاف مقدمے کی کارروائی کی گئی۔ اسی وجہ سے انسانی حقوق کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ متعدد حلقوں کی جانب سے اس مرکز اور امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ایک وقت تھا کہ گوانتانامو میں قیدیوں کی تعداد آٹھ سو کے قریب تھی۔