1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو: سابقہ قیدی کا امریکی حکومت کے خلاف مقدمے کا منصوبہ

گزشتہ ہفتہ کیوبا کے جزیرے پر گوانتانامو کے حراستی کیمپ سے رہا ہونے والا افغان شہری محمد جواد امریکی حکومت کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

default

گوانتانامو کے قیدی: آزادی کا مطالبہ

کابل میں اس امر کا اعلان کرتے ہوئے محمد جواد کے وکیل ایرک مونتالوو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گوانتانامو کی جیل کے سب سے کم عمر قیدی اور افغان نوجوان محمد جواد کے ساتھ اس امریکی حراستی کیمپ میں کئی زیادتیاں کی گئیں اور نہایت برا سلوک کیا گیا جس کے سبب وہ واشنگٹن حکومت سے تلافی چاہتا ہے۔ ایرک مونتالوو نے واضح طور پر کہا کہ جواد امریکی حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

Uigurische Häftlinge auf Guantanamo

گوانتانامو کیمپ میں آہنی جنگلے کے پیچھے سے لی گئی ایک قیدی اور ایک محافظ کی تصویر

خود بھی امریکہ سے تعلق رکھنے والے Eric Montalvo نے کابل میں صحافیوں کو بتایا: "یہ غلطی ہو چکی ہے اور میرے خیال میں امریکی حکومت اس بارے میں جواد کے حق میں کوئی بھی قدم نہیں اٹھائے گی"۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یہی نظر آتا ہے کہ امریکی اور افغان حکومتیں محمد جواد کے علاج معالجے اور اس کی ذہنی اور جسمانی تربیت پر توجہ دیں اور اس پر اٹھنے والے اخراجات بھی دونوں ملکوں کی حکومتوں کہ مل کر ادا کرنا چاہیئں۔

محمد جواد کی عمر اس وقت بیس اکیس سال کے قریب ہے۔ اسے قریب ساڑھے چھ، سات سال کی قید کے بعد رہا کیا گیا۔ اس افغان نوجوان کو سن 2002 میں کابل سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر افغان دارالحکومت کے ایک مرکزی علاقے میں امریکی فوج کی ایک گاڑی پر دستی بم پھینکنے کا الزلم عائد کیا گیا تھا، جس کے پھٹنے کے نتیجے میں دو امریکی فوجی اور ان کا ایک افغان مترجم زخمی ہوگئے تھے۔

جمعرات کے روز کابل میں اپنے وکیل کے ساتھ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے محمد جواد نے کہا کہ وہ سات سال بعد رہائی پانے اور دوبارہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ زندگی بسر کر سکنے پر بہت خوش ہے۔ جب جواد سے یہ پوچھا گیا کہ گوانتانامو کی جیل میں اس کے ساتھ کس قسم کی زیادتیاں کی گئیں، تو جواب میں اس افغان نوجوان نے کہا کہ اس کی صحت ابھی ٹھیک نہیں ہے اور وہ اپنا علاج کروا رہا ہے، اس لئے وہ اب اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا۔

Guantanamo Gefängnis Eingang Camp Delta

گوانتانامو جیل کے کیمپ ڈیلٹا کے صدر دروازے کا ایک منظر

امریکی وکیل ایرک مونتالوو کی محمد جواد سے ملاقات سن 2008 میں اگست کے مہینے میں گوانتانامو کی جیل میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد مونتالوو نے جواد کی قانونی مدد شروع کی، اور انہی کوششوں کے باعث گزشتہ ہفتہ جواد کی رہائی عمل میں آئی۔ محمد جواد کے وکیل کے مطابق یہ امر ناقابل قبول ہے کہ ایک "بے گناہ نوجوان کو سات سال تک آزاد زندگی سے محروم رکھا جائے اور پھر اس کے ساتھ اس ناانصافی کی تلافی بھی نہ کی جائے"۔

افغان صدر حامد کرزئی نے جواد کی رہائی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور امریکی انتظامیہ سے جواد اور اس کے اہل خانہ کی مدد کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ افغانستان پہنچنے پر حامد کرزائی نے جواد کو کابل کے صدارتی محل میں مدعو بھی کیا تھا۔

گوانتانامو کی جیل سے جواد کی رہائی کے لئے امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے گزشتہ ماہ واشنگٹن حکومت کو باقاعدہ ایک حکم بھی دیا تھا، اور اس حکم پر عمل درآمد کے لئے گزشتہ پیر تک کی مہلت دی گئی تھی۔ اس پر امریکی حکام نے جواد کو گوانتانامو جیل سے رہا کرنے کے بعد ایک فوجی طیارے کے ذریعے کابل پہنچا دیا، جہاں جواد کی والدہ نے اس کا استقبال کیا۔ جواد کے اہل خانہ میں سے اب اس کی والدہ کے سوا کوئی بھی زندہ نہیں ہے۔

گوانتانامو کی متنازعہ جیل سے ابھی حال ہی میں محمد جواد کو تو رہائی مل گئی، لیکن وہاں اب بھی 200 کے قریب افراد زیر حراست ہیں، جنہیں امریکہ دہشت گرد یا مشتبہ دہشت گرد قرار دیتا ہے۔ امریکی صدر باراک اوباما نے کئی ماہ قبل یہ حکم جاری کیا تھا کہ عالمی سطح پر کڑی تنقید کا نشانہ بننے والی اس امریکی جیل کو سال رواں کے آخر تک بند کردیا جائے۔

رپورٹ: کشور مصطفےٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM