1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو حراستی مرکز کی مکمل بندش کا نیا منصوبہ

امریکی محکمہ دفاع نے گوانتانامو بے کے متنازعہ حراستی مرکز کی بندش کے حوالے سے اپنا ایک منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کے تحت وہاں موجود قیدیوں کو ایک دوسری جیل میں منتقل کیا جائے گا۔

بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے اس سلسلے میں ایک نئی جیل کی تعمیر کے لیے 475 ملین ڈالر کے اعدادوشمار جمع کرائے ہیں۔ تاہم اس نئی تنصیب کے ذریعے گوانتانامو حراستی مرکز کے مقابلے میں 180 ملین ڈالر سالانہ کے اخراجات بچائے جا سکیں گے۔

آج منگل کے روز یہ منصوبہ امریکی کانگریس کے حوالے کیا جا رہا ہے، جس کا ایک مقصد صدر باراک اوباما کی اس مہم کا مثبت جواب بھی ہے، جس میں اوباما نے گوانتانامو بے کے حراستی مرکز کی مکمل بندش کا اعلان کیا تھا۔ اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ امریکی قانون سازوں کو اس بات پر راضی کر لیں گے کہ وہ اس منصوبے کی منظوری دے دیں۔

امریکی محکمہ دفاع کے مطابق اس منصوبے کے تحت گوانتانامو میں موجود 60 قیدیوں کو امریکا منتقل کیا جا سکے گا، تاہم اس سے قبل امریکی قانون ساز ایسی تمام کوششوں کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

Symbolbild Guantanamo

اس حراستی مرکز کو دنیا بھر میں تنقید کا سامنا رہا ہے

امریکی ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ اور ریپبلکن جماعت سے تعلق رکھنے والے ریاست ٹیکساس کے سینیٹر میک تھورن بری کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس منصوبے سے متعلق تفصیلات کے لیے ایک سماعت ہو گی، جب کہ اوباما انتظامیہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں تمام تفصیلات مہیا کریں کیوں کہ دوسری صورت میں یہ منصوبہ قابل قبول نہیں ہو گا۔

حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت امریکا میں تیرہ مختلف مقامات پر ان قیدیوں کو منتقل کیا جائے گا۔ اس حوالے سےکولوراڈو، جنوبی کیرولائنا اور کینساس کے علاقوں سمیت دیگر چھ فوجی اڈوں میں ایک خصوصی حراستی مرکز کی تعمیر سے متعلق تجاویز دی گئی ہیں۔ تاہم اخراجات اور دیگر تفصیلات فی الحال صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان قیدیوں کو امریکا میں منتقل کرنے پر حکومت کو 265 تا 305 ملین ڈالر سالانہ کا خرچ برداشت کرنا پڑے گا، تاہم گوانتانامو کے حراستی مرکز پر اٹھنے والے اخراجات 445 ملین ڈالر ہیں۔ اس طرح اس مد میں سالانہ بنیادوں پر ایک بڑے سرمایے کی بچت ممکن ہو پائے گی۔