1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گوانتانامو جیل بند کردی جائے گی، باراک اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے قومی سلامتی کے موضوع پر جمعرات کے روز ایک تقریر میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گوانتانامو کی جیل بند کر دی جائے گی۔

default

امریکی صدر باراک اوباما گوانتانامو کی امریکی فوجی جیل کو بند کرنے کا اعلان کرچکے ہیں

اوباما نے کہا کہ گوانتانامو کے حراستی کیمپ میں موجود قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو امریکی جیلوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

US-Lager Guantánamo

کیوبا میں واقع متنازعہ گوانتانامو جیل کا ایک منظر

گوانتانامو جیل کی مجوزہ بندش کی شدید مخالفت اور اس حوالے سے کانگریس میں پیش کئے گئے ایک مالیاتی بل کے مسترد کئے جانے کے باوجود امریکی صدر نے واضح کردیا کہ یہ جیل بند ہونی ہے اور ایسا ہو کر رہے گا۔

کیوبا کے جزیرے پر اس امریکی جیل کے قیدیوں کی ممکنہ رہائی کے بارے میں عمومی تشویش کا جواب دیتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ امریکہ کسی ایسے شخص کو قطعی رہا نہیں کرے گا جو اس کی سلامتی کے لئے خطرہ ثابت ہوسکتا ہو۔

Guantanamo Häftlinge beim Gebet

گوانتانامو جیل کے قیدی نماز پڑھتے ہوئے

ایک امریکی سینیٹر نے ابھی حال ہی میں ایک ایسا پر زور بیان بھی دیا تھا جس میں امریکہ میں جیلوں کی صورت حال اور عام شہریوں میں گوانتانامو سے قیدیوں کی امریکہ منتقلی پر رد عمل کا ذکر کیا گیا تھا۔ اس بارے میں باراک اوباما نے کہا: "ملک کی سلامتی اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے کچھ ملزمان کو امریکہ میں قائم ایسی محفوظ جیلوں یا مخصوص حراستی مراکز میں رکھا جائے گا جہاں بہت خطرناک اور تشدد پر آمادہ قیدیوں کو رکھا جاتا ہے"

ان جیلوں کے بارے میں صدر اوباما نے اپنے ہم وطنوں کو یاد دلایا کہ ایسی جیلوں، مثلاً وفاقی حکومت کے انتظام میں کام کرنے والی سپرمیکس نامی جیل سے آج تک کوئی قیدی فرار ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔

Amnesty International fordert die Schließung von Guantanamo

انسانی حقوق کی تنظیمیں عرصے سے اس جیل کو بند کرنے کے لیے مہم چلا رہی ہیں


امریکی سلامتی کی موجودہ صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ انہیں معلوم ہے کہ القاعدہ نیٹ ورک بڑی سرگرمی سے امریکہ پر دوبارہ حملوں کی منصوبہ بندی میں مصروف ہے۔’ ہمیں معلوم ہے یہ خطرہ کافی عرصے تک موجود رہے گا اور ہمیں اس کے خاتمے کے لئے اپنی پوری طاقت کا استعمال کرنا ہوگا۔ ہم نے اس مقصد کے حصول کے لئے اب تک کافی اقدامات کئے ہیں‘

اوباما نے ایشیا میں دہشت گردی کے شکار دو ہمسایہ ملکوں پاکستان اور افغانستان کے بارے میں واشنگٹن کی حکمت عملی کے بارے میں کہ 2002 کے بعد اب پہلی مرتبہ امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث دہشت گردوں کے خلاف وہ پاکستان اور افغانستان کو اس لڑائی میں درکار وسائل فراہم کررہے ہیں اور اس جنگ کے لئے عسکری سمت کے تعین میں مدد بھی۔

امریکی صدر نے خلیج گوانتامو کے علاقے میں قائم امریکی بحری اڈے کی اس جیل میں قید 240 ملزمان کے خلاف الزامات کی ایک کمیٹی کے ذریعے نئے سرے سے چھان بین کا عزم بھی دہرایا اور ساتھ ہی اپنے پیش رو صدر بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پالیسیوں پر تنقید بھی کی۔

DW.COM