1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو بے جیل کے کم عمر قیدی کو لاکھوں ڈالر ہرجانہ ادا

کینیڈین حکومت نے اپنے ایک شہری کے حقوق کی عدم پاسداری کے تناظر میں لاکھوں امریکی ڈالر کا ہرجانہ ادا کر دیا ہے۔ یہ رقم عمر خضر کو ادا کی گئی، جو تقریباً دس برس تک امریکی جیل گوانتانامو بے میں قید رکھا گیا تھا۔

کینیڈا کے مقامی ذرائع کے مطابق گوانتانامو بے میں رکھے جانے والے کینیڈین شہری عمر خضر کو حکومت نے 8.1 ملین ڈالر کا ہرجانہ ادا کر دیا ہے۔کینیڈا کی لبرل حکومت نے رواں ہفتے کے اوائل میں عمر خضر سے معذرت بھی کی تھی کہ وہ اُس کے حقوق کے مناسب تحفظ میں ناکام رہی تھی۔

Omar Khadr 2002 (Reuters)

عمر خضر کی افغانستان جانے سے قبل کی تصویر

ہرجانے کی ادائیگی سے قبل کینیڈین سپریم کورٹ نے بھی اس حوالے سے دائر اپیل میں کہا تھا کہ حکومت عمر خضر کے حقوق کی پاسداری میں ناکام رہی تھی۔ خضر کے وکلاء کے مطابق گوانتانامو کی جیل میں اُسے شدید ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 خضر کو سن 2002 میں افغانستان سے اُس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ صرف پندرہ برس کا تھا۔ افغانستان میں اُسے اُس کا والد لے کر گیا تھا، جو القاعدہ کا فعال رکن تھا۔ خضر کا والد پاکستانی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے سن 2003 میں مارا گیا تھا۔

خضر ابھی بم بنانے کی تربیت حاصل کر ہی رہا تھا کہ امریکی فوج کے طبی شعبے سے منسلک ایک فوجی اہلکار کے ساتھ مسلح جھڑپ کے الزام میں اُسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اُسے امریکی فوج نے گوانتانامو کی خصوصی جیل میں منتقل کر دیا گیا اور اُس جیل کے اندر ہی قائم فوجی عدالت نے اسے سزا سنائی تھی۔ وہ گوانتانامو بے کا کم عمرتین قیدی قرار دیا گیا تھا۔

ایک دہائی تک گوانتانامو بے کی جیل میں قید رہنے کے بعد خضر کو سن 2012 میں کینیڈا منتقل کیا گیا اور اُسے سن 2015 میں رہائی دی گئی۔ عمر خضر نے اپنی حکومت پر تقریباً 16 ملین ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا تھا۔ اس ہرجانے کی عدالتی کارروائی کے دوران ہی حکومت اور خضر کے درمیان عدالت سے باہر ایک معاہدہ طے پا گیا۔ اس عدالتی کارروائی کی گونج سارے کینیڈا میں محسوس کی گئی ہے۔

 بتایا گیا ہے کہ  عمر خضر نے حاصل ہونے والی اس انتہائی کثیر رقم کو فوری طور پر اپنے اکاؤنٹ میں منتقل بھی کر دیا ہے۔