1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوانتانامو بےکے کم عمر قیدی کے لئے سزا کا اعلان

امریکہ کی فوجی عدالت نے کینیڈا کے ایک مسلمان انتہاپسند عمر خادر کو اعتراف جرم کے بعد حتمی سزا سنا دی ہے۔ اس کو چالیس سال قید کا حکم سنایا گیا ہے۔

default

عمر خادر کی ایک پرانی تصویر

عمر خادر پر دوسرے جرائم کی فہرست میں دہشت گردانہ کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ایک امریکی فوجی کو ہلاک کرنا بھی شامل تھا۔ اسے سن 2002 میں پندرہ سال کی عمر میں گرفتار کر کے کیوبا میں امریکہ کے زیرانتظام حراستی کیمپ گوانتانامو بے منتقل کیا گیا تھا۔ ترتیب کے اعتبار سے وہ پانچواں قیدی ہے جس کو سزا سنائی گئی ہے۔ فوجی عدالت نے عمر خادر کو جرائم کو تسلیم کرنے کی ڈیل (Plea Deal) کی سہولت بھی دی ہے۔ اس ڈیل کے تحت اس کی کل مدت سزا صرف آٹھ سال ہو گی۔

عمر خادر کا مقدمہ جس فوجی عدالت نے سنا، اس کے اراکین کی تعداد سات تھی اور اس نے دو روز کل نو گھنٹے فیصلے تک سماعت جاری رکھی جو اتوار کو مکمل ہوئی۔ عدالت میں نوجوان قیدی نے القاعدہ کی معاونت کے لئے کل پانچ اقدامات کا جرم قبول کیا تھا۔ حتمی عدالت سے قبل وکلائے استغاثہ اور صفائی کے ساتھ ہونے والی اعتراف جرائم کی ڈیل کے تحت عمر خادر کو مزید ایک سال گوانتانامو بے کے قید خانے میں گزارنا ہو گا اور اس کے بعد اسے واپس کینیڈا کے شہر ٹورانٹو روانہ کردیا جائے گا۔ کینیڈا کی جانب سے عمر خادر کو وصول کرنے کا اعلان سامنے آ گیا ہے۔

عدالت میں نوجوان عمر خادر کا کہنا تھا کہ جب اس نے مالی انعام کے لالچ کو محسوس کیا تو اس کا دل چاہتا

Omar Khadr / Guantanamo / Kindersoldat

عمر خادر کے مقدمے کا خاکہ

تھا کہ وہ بے شمار امریکی فوجیوں کو ہلاک کر کے دولت اکھٹی کر لے۔ خادر کے مطابق ایک امریکی کو ہلاک کرنے کا انعام ڈیڑھ ہزار ڈالر رکھا گیا تھا۔ اسی طرح اس نے امریکی فوجی کی بیوہ سے افسوس کا بھی اظہار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے امریکی خاتون کو بیوگی کا دکھ دیکھنا پڑا۔ امریکی فوجی کرسٹوفر سپیئرکو اس نے افغانستان میں سن 2002 میں گرنیڈ پھینک کر مارا تھا۔ فوجی عدالتی کے فیصلے پر امریکی فوجی کی بیوہ نے اطمیننان کا اظہار کیا تھا۔

عدالت میں Plea Deal کی ایک کاپی بھی پیش کی گئی تھی جس میں اعتراف جرائم کے ساتھ ساتھ گرفتاری کے وقت اس کی کم عمری کا بھی ذکر تھا۔ اس دستاویز میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ وہ افغانستان میں کسی منظم دہشت گرد گروہ یا تنظیم کا رکن بھی نہیں تھا۔ اس نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس نے دستی لڑائی کی تربیت کے علاوہ عمارتوں کے اندر تباہی پھیلانے والےبموں کی تنصیب کی تربیت حاصل کی تھی۔

عمر خادر کا بنیادی تعلق تو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو سے ہے لیکن اس کا والد احمد خادر دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی خیال کیا جاتا تھا۔ احمد خادر سن 2003 میں ایک لڑائی میں مارا گیا تھا۔ وہ خود سن 2002 کی ایک سخت لڑائی کے دوران زخمی ہو کر امریکی فوج کی حراست میں لایا گیا تھا۔ اس گرفتاری کے بعد ہی اس نے امریکی فوجی کی ہلاکت کا اعتراف کیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس