1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوادر بندرگاہ کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کی درخواست

پاکستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) میں گوادر بندرگاہ کا ٹھیکہ سنگاپور کی ایک ریاستی کمپنی کو دئے جانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت شروع ہوگئی ہے۔

default

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ سابق وفاقی حکومت نے اس بندرگاہ کا ٹھیکہ دیتے وقت بلوچستان کی حکومت کے تحفظات کو خاطر میں نہیں رکھا اور نہ ہی اسے اعتماد میں لیا۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے دور حکومت میں گوادر بندرگاہ کی مینیجمنٹ اور آپریشنل کنٹرول کا ٹھیکہ سنگاپور کی ریاستی کمپنی PSA کو دیا گیا تھا۔

فروری 2007ء میں طے پانے والے اس ٹھیکے کی مدت 40 سال رکھی گئی تھی۔ معاہدے کے تحت بلوچستان کی حکومت کو بندرگاہ کے اطراف ایکسپورٹ پروسیسنگ زون،گوداموں کے لئے فری زونز اور سڑک، ریل، بجلی اور پانی جیسی سہولیات کی دستیابی کے لئے بنیادی انفراسٹرکچر مہیا کرنا تھا۔

Pakistan Hafen Gwadar

ساحلی شہر گوادر کی فضائی تصویر

وزیر اعلیٰ رئیسانی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ وفاقی حکومت سے اس ٹھیکے کو منسوخ کرنے کا کہا جائے۔ انہوں نے PSA پر الزام عائد کیا کہ یہ کمپنی نہ تو کاروبار لائی اور نہ ہی بندرگاہ میں توسیع کی۔ رواں سال ستمبر میں پاکستانی بحریہ کے سربراہ بھی حکومت سے اس ٹھیکے کی منسوخی کی درخواست کرچکے ہیں۔

حکومتی اہلکار ایسی قیاس آرائیوں کو مسترد کر رہے ہیں کہ اس بندرگاہ کا ٹھیکہ چین کو دئے جانے کے بارے میں سوچا جارہا ہے۔ ذرائع کے مطابق گوادر میں انفراسٹرکچر بنانے کے لئے بیجنگ حکومت 248 ملین ڈالر فراہم کرچکی ہے جو وہاں اسی نوعیت کے کام پر اٹھنے والی مجموعی لاگت کا 80 فیصد بنتا ہے۔ بہت سے مبصرین کی رائے میں چین اس لئے پاکستانی بندرگاہ کی تعمیر میں معاونت کر رہا ہے کیونکہ وہ بحیرہ عرب میں واقع ہے جو بحر ہند کا حصہ ہے۔

چین بحر ہند میں چند بندرگاہوں کی تعمیر میں شریک ہے۔ امریکہ کے مقابلے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی پالیسی پر کار بند ہے۔ اسی ضمن میں بھارتی حکومت بھی اپنے مؤقف کا کھل کر اظہار کرچکی ہے۔

Manmohan Singh

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ واضح الفاظ میں کہہ چکے ہیں کہ چین بحر ہند میں اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے

اس معاملے کی اہمیت یوں بھی ہے کہ خسارے کے بوجھ تلے دبی پاکستانی معیشت کو نئی بندرگاہ کے فعال ہونے سے مضبوط سہارا ملنے کی توقع ہے۔ اسلام آباد حکومت کی خواہش ہے کہ خشکی میں گھری وسط ایشائی ریاستیں بین الاقوامی تجارت کے لئے اس کی بندگاہوں کو استعمال میں لائیں۔ فی الحال پاکستان کی دو بندرگاہیں زیادہ فعال ہیں، کراچی اور بن قاسم۔

قائد اعظم یونیورسٹی میں دفاع اور سٹریٹیجک امور کے شعبہ کے سربراہ رفعت حسین کا کہنا ہے، ’’ بھارت سب پر یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ چین خطے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھا رہا ہے مگر خطے کے دوسرے ممالک ایسا نہیں سوچتے۔‘‘

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس