1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گوئٹے مالا میں لینڈسلائنڈنگ سے درجنوں ہلاک

وسط امریکی ملک گوئٹے مالا میں زمینی تودے گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 45 تک پہنچ گئی جس کے بعد صدر الوارو کولوم نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کردیا ہے۔

default

اتوار کو مٹی کے تودے گرنے کے اس واقعے کے باعث درجنوں افراد بھی تک مٹی تلے دبے ہیں۔ رضاکار کیچڑ تلے دبے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ امدادی کارکنوں نے اتوار کو تین سو میٹر گہری کھائی سے نو لاشیں نکالی۔ چمالتی نانگو نامی شہر کے پاس ہائی وے پر مسافروں سے بھری ایک بس بھی اسی نوعیت کے حادثے کا شکار ہوئی جس میں دس افراد کی موت ہوگئی جبکہ بیس کو زندہ بچالیا گیا۔

شدید بارشوں کے سبب ملک بھر کے بیشتر حصوں میں یہی صورتحال ہے جس سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا بھی خدشہ ہے۔ صدر الوارو کولوم گوئٹے مالا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان بھی کرچکے ہیں۔ وہ ایسے ہی ایک حادثے کے مقام پر خود بھی گئے جہاں ممکنہ طور پر کم از چالیس افراد مٹی اور کیچڑ تلے دبے ہوئے تھے۔ صدر کولوم نے کہا کہ اس وقت حکومت کی سب سے بڑی ترجیح اس ہنگامی صورتحال سے نمٹنا ہے۔

Guatemalas Präsident Alvaro Colom

گوئٹے مالا کے صدر الوارو کولوم

گوئٹے مالا کے حکام موجودہ صورتحال کو اگاتھا طوفان کے برابر تباہ کن قرار دے رہے ہیں۔ رواں سال مئی میں آنے والے اس سمندری طوفان کے سبب 165 ہلاکتیں ہوئی تھیں اور ہزاروں لوگوں کے سر سے چھت چھن گئی تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لینڈ سلائڈنگ کے حالیہ واقعات نے چالیس ہزار افراد کو بے گھر کردیا ہے جبکہ ڈیڑھ لاکھ سے زائد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔ گوئٹے مالا کا شمار خطے کے غریب ممالک میں ہوتا ہے جسے اب کم از کم پانچ سو ملین ڈالر کا مالی نقصان پہنچا ہے۔

گوئٹے مالا کے متاثرہ علاقوں میں اتوار کو اس قدر شدید بارش ہوئی کہ امدادی کام پیر تک مؤخر کرنا پڑے۔ نیشنل کوآرڈینیشن فار ڈیزاسٹر ریڈکشن نامی ادارے کے مطابق مجموعی طور پر لینڈسلائڈنگ کے دو سو واقعات رونما ہوئے ہیں۔

ملک کے تین جنوبی علاقوں میں ریڈ الرٹ ہے۔ واضح رہے کہ وسطی امریکہ میں ان دنوں غیر معمولی بارشوں نے شدید تباہی مچارکھی ہے۔ گوئٹے مالا کے پڑوسی ملک ہونڈوراس میں 55، نیکاراگوا میں 40 ، السلواڈور میں نو اور کوسٹا ریکا میں تین ہلاکتوں کی وجہ انہی بارشوں کو قرار دیا جارہا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM