گناہ دھوئیں، مگر پلاسٹک مت لائیں | معاشرہ | DW | 15.01.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گناہ دھوئیں، مگر پلاسٹک مت لائیں

لاکھوں ہندو مرد ایک مشکل چڑھائی کی بلندی پر موجود ایک مندر میں شادی نہ کرنے والے ایک بھگوان کی پوجا کرتے ہیں اور گناہ دھونے کے لیے دریائے پمبا میں نہاتے ہیں۔ مگر ایک نئے قانون کا شکریہ کہ وہاں اب آلودگی بہت کم ہوتی ہے۔

بھارتی ریاست کیرالہ میں شیروں کے تحفظ کے لیے بنائے گئے نیشنل پارک کے اندر جنگلاتی علاقے میں واقع سباریمالا مندر تک آنے جانے والوں پر مقامی انتظامیہ نے یہ پابندی لگا دی ہے کہ وہ پلاسٹک کی پیکنگ والی اشیا یا بوتلیں وغیرہ ساتھ نہیں لا سکتے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہر سال ایک کروڑ کے قریب ہندو زائرین اس مندر پر عبادت کے لیے پہنچتے ہیں۔ حالانکہ یہاں ایسی کسی خاتون کے جانے پر پابندی ہے جو بچے پیدا کرنے کی عمر میں داخل ہو چکی ہو۔

سالہا سال سے یہاں اتنی بڑی تعداد میں آنے والوں کے سبب یہ علاقہ ماحولیاتی آلودگی کا شکار تھا کیونکہ زائرین جنگلاتی علاقے میں پلاسٹک کے پیکنگ اور بوتلیں پھینک دیتے تھے۔ یہ کوڑا کرکٹ پورے جنگل میں پھیل جاتا تھا۔ پھر چونکہ یہ زائرین اپنے گناہوں سے چھٹکارا پانے کے لیے دریا میں نہاتے ہیں تو اکثر اپنے پرانے کپڑے وغیرہ وہیں چھوڑ دیتے جس کی وجہ سے دریا میں آلودگی بہت بڑھ گئی تھی۔

گزشتہ برس مرنے والے کم از کم ایک ہاتھی اور سامبا ہرنوں کے پیٹ سے پلاسٹک کے باقیات ملے تھے جس کے بعد کیرالہ کے محکمہ جنگلات نے گزشتہ برس مقامی عدالت میں ایک پٹیشن دائر کی تھی کہ اس علاقے میں ڈسپوزایبل پلاسٹک کی چیزوں پر پابندی عائد کی جائے۔

اس طرح کی پابندیاں بھارت کے اور بھی کئی حصوں میں لگائی گئی ہیں جن میں دارالحکومت نئی دہلی بھی شامل ہے۔ تاہم نہ تو عوام ہی کی طرف سے اس پر خاطر خواہ پابندی کی جاتی ہے اور نہ ہی انتظامیہ کی طرف سے اس پر پابندی کرانے کی کوئی خاص کوشش۔ ہمالیہ کے علاقے میں ایک غار میں موجود امرناتھ مندر بھی اسی طرح کی ایک مثال ہے جو اس پہاڑ کی چوٹی پر پھیلنے والے پلاسٹک کے کوڑے کرکٹ کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔

تاہم سباریمالا کے علاقے کے حکام اور وہاں جانے والے زائرین بھی اب یہی کہتے ہیں کہ اس قانون کے نفاذ کے بعد وہاں کافی تبدیلی آئی ہے۔ زائرین اپنے ساتھ لائے جانے والے پلاسٹک بیگز اور بوتلیں وہاں موجود انتظامیہ کے ورکرز کو جمع کرا دیتے ہیں۔ اس پلاسٹک کا 90 فیصد حصہ ری سائیکل کر دیا جاتا ہے جبکہ بقیہ جلایا جاتا ہے۔

ڈنوج ڈی نامی ایک زائر نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹد پریس کو بتایا، ’’یہاں حیران کن تبدیلی آ چکی ہے۔ پلاسٹک کے خلاف یہ قانون وقت کی ضرورت تھا۔‘‘ قریبی ریاست کرناٹکہ سے تعلق رکھنے والا ڈنوج گزشتہ 10 برسوں سے ہر سال اس مندر تک جاتا ہے۔

تاہم ابھی بھی اس حوالے سے بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ حکام کا ارادہ ہے کہ آئندہ برس سے بجائے اس کے کہ زائرین رضاکارانہ طور پر پلاسٹک کی اشیا جمع کرائیں بلکہ ایسی اشیا ساتھ لانے والے زائرین سے خود ہی لے لی جائیں اور ان پر جرمانہ بھی عائد کیا جائے۔