1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گناہوں کو دھونے والا دریائے جمنا خود ہی آلودہ

بھارت میں دریائے جمنا کو آلودگی سے بچانے اور اس حوالے سے لوگوں میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ایک تصویری نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے۔

default

نمائش میں دریا کے متعفن زدہ اور غلاظت سے بھرے ہوئے مختلف حصوں کو تصویری شکل میں بڑے خوبصورت انداز سے پیش کیا گیا ہے۔ دریائے جمنا کو ہندو مذہبی اعتبارسے مقدس تصور کرتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اس منصوبے کے منتظمین پرامید ہیں کہ تصویری نمائش کوان افراد کی جانب سے سراہا جائے گا جودریا کے کنارے عبادت کی غرض سے آتے ہیں اور یہاں کی سنگین آلودگی کے باعث پریشان ہیں۔

اس تصویری نمائش کے منصوبے کو چار بھارتی اور پانچ جرمن فنکاروں نے مل کر عملی شکل دی ہے۔ اس نمائش کا بنیادی مقصد دریائے جمنا کی افسوسناک صورتحال کا جرمنی کے شفاف دریا ایلبے کے ساتھ موازنہ کرنے سے عوام میں دریائے جمنا کے تحفظ اور صفائی کا شعور اجاگر کرنا ہے۔ جرمنی میں بھی اسی قسم کی ایک نمائش کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ اس منصوبے میں شامل آرٹسٹ روی اگروال نے اس حوالے سے کہا، ’’سب دریا کی آلودگی کے بارے میں جانتے ہیں لیکن ہم اس دریا کے تحفظ اور اہمیت کے بارے میں لوگوں میں مزید شعور اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

Flash-Galerie Chhath Fest Indien

دریائے جمنا کو ہندو مذہبی اعتبارسے مقدس تصور کرتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں

دارالحکومت نئی دہلی کی 70 فیصد پانی کی ضروریات دریائے جمنا سے پوری کی جاتی ہیں۔ دریا کی باقاعدہ صفائی کے لیے سپریم کورٹ نے واضح احکامات بھی جاری کیے ہیں تاہم ان پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک دریا شدید آلودگی کا شکار ہے۔ حکومت کی جانب سے اس مقصد کے لیے ایک کثیر رقم صرف کرنے کے باوجود بھی یہ مسئلہ حل طلب ہے۔ ماحولیاتی تحفظ کے لیے سرگرم کارکن دریا کے نزدیکی علاقوں میں نکاسی آب کے پلانٹس لگانے اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف ریاستوں کے درمیان پانی کے حصول کے لیے جاری رسہ کشی کو دریا کی آلودگی کا باعث قرار دیتے ہیں۔

آرٹسٹ عاصم واقف نے دریا کے پانی کو آلودہ کرنے والی پلاسٹک کی بوتلوں کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے دریا کی ناراضگی کو ظاہر کرنے کے لیے یہ نمونہ ترتیب دیا ہے۔ واقف اس حوالے سے مزید کہتے ہیں، ’’یہ دریا یہاں آلودگی کی صفائی کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کے پاپ دھونے کے لیے ہے۔‘‘ منتظمین کے مطابق روزانہ 150 سے 200 افراد یہ فن پارے دیکھنے آتے ہیں۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: حمادکیانی

DW.COM