1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گم شدہ براعظم زیلانڈیا کے راز جلد کھول دیے جائیں گے

بعض سائنسی اور بشریاتی محققین زیلانڈیا نام کو ایک گم شدہ براعظم خیال کرتے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے مختلف مہم جُو اس گم شدہ براعظم کے راز جاننے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اندازوں اور بعض آثار کے مطابق گم شدہ زیلانڈیا براعظم کی موجودگی آسٹریلیا کے مشرقی حصے میں جنوبی بحر الکاہل کے نیچے تہہ میں کہیں ہو سکتی ہے۔ ایسے اندازے لگائے گئے ہیں کہ یہ گم شدہ زیلانڈیا براعظم ایک اور لاپتہ سپر براعظم گونڈوانا کا حصہ ہوا کرتا تھا۔

محققین کا یہ بھی خیال ہے کہ زیلانڈیا قریب پچھتر ملین برس قبل سپر براعظم گونڈوانا سے ٹوٹ کر علیحدہ ہو گیا تھا۔ اس علیحدگی کی وجوہات کی بابت بشریاتی و ارضیاتی محققین کوئی تفصیل فراہم نہیں کرتے۔

گم شدہ براعظم ’گونڈوانا‘ کی باقیات دریافت

امریکا کی جیولوجیکل سوسائٹی کے جریدے میں رواں برس ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی گئی تھی کہ زیلانڈیا کی دریافت سے زمین کے ایک اور براعظم کی دریافت ہو گی۔ ان  کا کہنا ہے کہ زمین کے سمندر کی تہہ میں مخفی ایک وسیع و عریض چٹیل چٹان کو یقینی طور پر براعظم قرار دیا جا سکتا ہے۔

زیلانڈیا کی تلاش کا عمل جنوبی بحر الکاہل کے پانچ ملین مربع کلومیٹر علاقے کی تہہ میں شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ علاقہ نیوزی لینڈ کے جنوب سے شروع ہو کر نیو کالیڈونیا اور پھر مغرب میں سطع مرتفع کین تک جاتا ہے۔ سطح مرتفع کین آسٹریلیا کے مشرق میں واقع ہے۔

Myanmar Mergui Archipel (picture-alliance/AP Photo/A. Qadri)

زیر سمندر گم ہو جانے والے انسانی تہذیب و تمدن کا سراع لگایا جا رہا ہے

تلاش کے اِس عمل میں ایک بڑا تحقیقی بحری جہاز جوائیڈز ریزولوشن کو خصوصی آلات کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ اس تلاش کے لیے خصوصی ریسرچرز کی ایک ٹیم بنائی گئی ہے۔ اس میں ماہرینِ طبعیات، انتھروپولوجی اور جیولوجی شامل ہیں۔ اس ٹیم کے شریک چیف سائنسدان جیری ڈکنز کا کہنا ہے کہ جس علاقے کا اس تلاش کے لیے تعین کیا گیا ہے، وہ ارضیاتی تناظر میں بہت اہم ہے۔

ڈکنز کا کہنا ہے کہ زیلانڈیا کا کھوج ایسے ہی ہے جیسے آسٹریلیا انتہائی سست رفتار کے ساتھ شمال کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس باعث آسٹریلیائی ریاست ٹسمانیہ کا سمندر سے باہر آنٓا ہے اور زیلانڈیا کا زیر سمندر چلے جانا ہو سکتا ہے۔

DW.COM