1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گمنام مرحوم جرمن ادیب ہانس فالادا تریسٹھ سال بعد مقبول

جرمن ادیب ہانس فالادا کی موت کے تریسٹھ سال بعد ان کے ناول نے دنیائے ادب میں ایک تہلکہ مچا دیا ہے۔ انگریزی میں ترجمے کے بعد شائع ہونے والے ان کے ناول نے امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ممالک میں ریکارڈ بزنس کیا ہے۔

default

دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی مخالف تحریک کو موضوع بنائے گئے اس ناول نے ادب شناس حلقوں میں حد درجہ داد بٹوری ہے۔ یہ ناول برطانیہ میں Alone in Berlin اور امریکہ میں Every Man Dies Alone کے عنوان سے ترجمہ کیا گیا۔

ابتدائی طور پر ادبی ناقدین نے مرحوم ہانس فالادا کو بوروژا طبقے کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے، ان کے کام کو مسترد کر دیا تھا تاہم اب چھ دہائیوں بعد ان کے اس ناول نے ، ان کے بارے میں پائے جانے والے عمومی خیالات کو بدل دیا ہے۔

سن دو ہزار نو میں ترجمہ کئے گئے اس ناول کی ایک لاکھ جلدیں صرف برطانیہ میں ہی فروخت ہو چکی ہیں تاہم اس ناول کی ناشر کمپنی نے امید ظاہر کی ہے کہ اس سال کے اختتام تک اس ناول کی کوئی ڈھائی لاکھ جلدیں فروخت ہو جائیں گی۔

Hans Fallada

ہانس فالادا کو جرمن ادبی منظر نامے پر کوئی خاص پذیرائی نہ مل سکی

حقیقی زندگی سے ماخوذ اس ناول کی کہانی ایک ایسے جوڑے پر مبنی ہے، جو دوسری عالمی جنگ کے دوران اپنے اکلوتے بیٹے کی ہلاکت کے بعد سیاسی طور پر متحرک ہوتے ہیں۔ یہ جوڑا اپنی سطح پر ہی ایک مہم شروع کرتا ہےاور برلن کی سڑکوں پر ہٹلر کےخلاف پمفلٹ اور دیگر مطالعاتی مواد تقسیم کرتا ہے، انہیں اس بات کا احساس بہت اچھے طریقے سے ہوتا ہے کہ اگر وہ پکڑے گئے تو انہیں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔

اس ناول کے مطالعہ کے دوران قاری، اس وقت کے برلن میں پہنچ جاتا ہے، جہاں نازی افواج اپنی انتہا پسندی کوجائز بنانے کے لئے کچھ بھی کرسکتی تھیں۔ اس ناول کی عمدہ جزئیات نگاری اور کہانی کی گرفت قاری کو موجودہ وقت سے نکال کر جنگ وجدل کے اس ماحول میں لے جاتی ہے،جہاں ہٹلر کےخیالات کی نفی کرنے والا اس دنیا میں جینے کا حق نہیں رکھتا۔

اس ناول کا ایک اچھوتا زاویہ یہ بھی ہے کہ یہ قاری کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران ہوتا تو وہ کیا کرتا۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM