1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار ریکارڈ حدوں کو چھُونے لگی

اکیس ویں صدی کے آغاز سے دنیا بھر میں گلیشیئر اس تیزی سے پگھلنے لگے ہیں کہ جس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی اور سائنسدانوں کی پیشین گوئی ہے کہ اس عمل کو روکنا اب ممکن نہیں ہو گا۔

یہ باتیں ورلڈ گلیشیئر مانیٹرنگ سروس کی جانب سے کیے گئے ایک مطالعاتی جائزے میں بتائی گئی ہیں۔ اس ادارے کا ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کی یونیورسٹی میں ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس مطالعاتی جائزے کی تفصیلات جرنل آف گلیشیالوجی میں شائع کی گئی ہیں۔

اس مطالعاتی جائزے کے مصنف مشائل سیمپ نے کہا ہے:’’برف کی تہہ میں اب ہر سال نصف میٹر سے لے کر پورے ایک میٹر تک کی کمی واقع ہو رہی ہے اور یہ رفتار بیس ویں صدی میں گلیشیئرز پگھلنے کی اوسط رفتار سے دو تا تین گنا زیادہ ہے۔‘‘

اس جائزے میں کہا گیا ہے کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں موجود گلیشیئرز کا توازن بگڑ چکا ہے۔ یہ گلیشیئرز اس حد تک غیر مستحکم اور غیر متوازن ہو چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کا عمل آگے بڑھنے سے رک بھی جائے تو ان گلیشیئرز کی برف بدستور پگھلتی رہے گی۔

بتایا گیا ہے کہ یورپ کے بیچوں بیچ واقع ایلپس پہاڑی سلسلہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ سیمپ کے مطابق ’آلیچ‘ گلیشیئر کئی کلومیٹر پیچھے چلا گیا ہے۔ ’مورٹیراچ‘ گلیشیئر کے حجم میں بھی بڑے پیمانے پر کمی ہوئی ہے۔ اُدھر الاسکا میں گلکانا اور لیمن کریک نامی گلیشیئرز کا حجم بھی بہت زیادہ کم ہوا ہے۔

سیمپ کے مطابق گلیشیئزرز کے پگھلنے کی سب سے بڑی وجہ مسلسل بڑھتا ہوا درجہٴ حرارت ہے۔ دوسری طرف اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر گلیشیئر کا حجم کم نہیں ہو رہا بلکہ کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے حجم میں اضافہ بھی ہو رہا ہے۔ تاہم مطالعاتی جائزے کے مطابق یہ عوامل مخصوص علاقوں تک محدود ہیں اور مخصوص مدت تک کے لیے ہی نظر آئیں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ گلیشیئرز اب اُتنے بڑے کبھی نہیں ہوں گے، جتنے کہ وہ ’چھوٹے برفانی دور‘ کے دوران یعنی سولہویں سے لے کر اُنیس ویں صدی تک ہوتے تھے۔

Gletscher Altsch Bern Alpen

یورپ کے بیچوں بیچ واقع ایلپس پہاڑی سلسلہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے اور ’آلیچ‘ گلیشیئر کئی کلومیٹر پیچھے چلا گیا ہے

یہ مطالعاتی جائزہ گلیشیئرز سے متعلق اُس بین الاقوامی رجسٹر پر مبنی ہے، جو ایک صدی سے زیادہ عرصے سے دنیا بھر میں ڈیٹا جمع کر رہا ہے۔ اس رجسٹر میں 2300 گلیشیئرز کے بارے میں تقریباً سینتالیس ہزار معلومات موجود ہیں۔ اس رجسٹر کے لیے معلومات چھتیس ملکوں سے ہزاروں مبصرین کی مدد سے حاصل کی جاتی ہیں۔