1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گلگت۔ بلتستان میں پہلے عام انتخابات

پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان میں وفاق کی متعارف کردہ نئی انتظامی اصلاحات کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات میں سات لاکھ سے زائد ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔

default

جمعرات کے روز 23 حلقوں میں منعقد ہونے والے ان انتخابات میں باقی ملک ہی کی طرح پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ نواز اور ق لیگ کے علاوہ ایم کیو ایم کے امیدوار آمنے سامنے ہوں گے۔ چاروں بڑی جماعتوں کی طرف سے کامیابی کے متضاد دعوﺅں کے باوجود یہ بات تقریباً طے ہے کہ وفاق کی طرز پر یہاں بھی کسی ایک جماعت کو اتنی اکثریت حاصل نہیں ہو سکے گی کہ وہ تن تنہا حکومت قائم کر سکے جبکہ اس دوران باقی تمام جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی طرف سے پیپلز پارٹی پر متواتر یہ الزام بھی لگائے جا رہے ہیں کہ وہ حکمران جماعت کی حیثیت سے گلگت بلتستان کے انتخابات میں اپنا ناجائز اثر و رسوخ استعمال کر رہی ہے۔

انتخابات کی نگرانی کرنے والے انسانی حقوق کمیشن نے اس ضمن میں خصوصی طور پر گورنر گلگت بلتستان قمرالزمان کائرہ کو ہدف تنقید بنایا ہے جو اپنی غیر جانبدارانہ حیثیت کے باوجود پارٹی کی انتخابی مہم چلانے میں پیش پیش رہے۔ اس حوالے سے شمالی علاقہ جات کے امور پر نظر رکھنے والے اخبار صدائے گلگت کے ایڈیٹر اکرام بخاری کا کہنا ہے: ” وزیراعظم یا گورنر وہاں پر جاتا ہے تو ظاہر ہے سرکاری مشینری اس میں استعمال ہوتی ہے ۔حکومت چاہے مسلم لیگ ن کی ہو، ق لیگ یا پیپلز پارٹی کی ہو یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ انتخابی مہم میں حکمران پارٹی سرکاری وسائل کو استعمال کرتی ہے اور ہردفعہ ایسا ہوتا ہے ۔اس حد تک مداخلت تو بہر حال ہے جہاں تک ٹرن آوٹ کا تعلق ہے گلگت بلتستان کے لوگ پہلی دفعہ یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ گلگت بلتستان کا حصہ ہیں اور انہیں اہمیت دی جا رہی ہے اس دفعہ ٹرن آﺅٹ یقیناً بہت زیادہ ہوگا۔“

ادھر پیپلز پارٹی کی قیادت ان تمام الزامات کو غلط اور بے بنیاد قرار دیتی ہے۔پارٹی کے سینئر رہنماءچوہدری منظور حسین کا کہنا ہے :” پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار خود رو رہے ہیں یہ ہمیں معلوم ہے کہ کتنی شکایات آرہی ہیں۔ حلقہ 2 کے ہمارے امیدار کے ڈھائی ہزار ووٹ کاٹ دیئے گئے ہیں۔ الزامات لگانے والوں کو پہلے خود اس چیز کو دیکھنا چاہئے اور شرم کرنا چاہئے کہ وہ کس حیثیت میں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔“

مبصرین کے خیال میں ماضی کے تجربات اور مشاہدے کو سامنے رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ گلگت بلتستان میں وہی جماعت حکومت بنانے میں کامیاب رہے گی جو اس وقت وفاق میں برسر اقتدار ہے۔

امتیاز گل، اسلام آباد

ادارت: عاطف بلوچ