1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گلگت بلتستان میں سیلابی ریلے کی آمد کا خطرہ

پاکستان کے شمالی علاقے میں بننے والی جھیل سے پانی کا بہاؤ شروع ہوگیا ہے، جس کے بعد سیلابی ریلہ گلگت اور ہنزہ کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ اگلے دو دن انتہائی اہم خیال کئے جارہے ہیں۔

default

حکام کے مطابق اگر پانی کے تیز بہاؤ کو روکنے کے لئے بنایا گیا بند اس ریلے کو روکنے میں ناکام رہا تو علاقے کی پچاس ہزار کی آبادی بری طرح متاثر ہوسکتی ہے۔ پہاڑے تودے گرنے سے وجود میں آنے والی اس جھیل کا پانی اپنی راہ میں آنے والے بہت سے گاؤں بہا لے جائے گا۔ گلگت بلتستان کے کمشنر آصف بلال لودھی کے مطابق ابھی تک پانی کا بہاؤ بالکل متوازن حالت میں ہے۔ ان کے مطابق انتظامیہ انتہائی چوکس ہے اور صورتحال کا بغور جائزہ لیا جارہا ہے۔

حکام کو امید ہے کہ سیلابی ریلے سے درمیانے درجے کا زمینی کٹاؤ عمل میں آئے گا تاہم پہاڑوں پر پگھلتی برف کے باعث پانی کی بلند ہوتی سطح کو دیکھتے ہوئے بڑے ریلے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا رہا ہے۔ رواں سال کے اوائل میں دریائے ہنزہ کی راہ میں پہاڑے تودے گرنے سے عطاء آباد کے علاقے میں یہ جھیل وجود میں آئی ہے۔ زمینی تودے گرنے کے واقعات میں وہاں گیارہ افراد ہلاک اور بیس زخمی ہوئے تھے جبکہ ڈھائی ہزار لوگوں کا گلگت سے رابطہ کٹ چکا ہے۔

Pakistan Stausee Hunza Flash-Galerie

جھیل میں پانی کی آمد اور سطح کی بلندی کا سلسلہ ابھی جاری ہے

پاکستانی فوج نے اس انیس کلومیٹر طویل اور تین سو ساٹھ فٹ گہری جھیل سے پانی کے اخراج کو ممکن بنانے کے لئے ایک سپل وے تعمیر کیا ہے۔ علاقے میں فوج کی نگرانی میں جاری راحت کاری کے کاموں کے نگران لیفٹینٹ جنرل ندیم احمد کا کہنا ہے کہ اگلے دو دن انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان کے مطابق اس وقت سپل وے سے پانی کا اخراج تین سو کیوسک ہے۔ فوجی ہیلی کاپٹر علاقے میں موجود ہیں جو ہنگامی صورت میں پھنسے لوگوں کو مدد فراہم کریں گے۔

آصف بلال لودھی کے مطابق سیلاب کی وجہ سے علاقے کے 34 گاؤں متاثر ہوں گے جبکہ پاکستان کو چین سے ملانے والی شاہراہ قراقرم کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ علاقے کے تاجروں کے مطابق رابطے منقطع ہونے سے چین سے اشیا کی دو طرفہ تجارت کرنے والوں کو لگ بھگ پندرہ ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ علاقے کے تین لاکھ مکینوں کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کی جاچکا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM