1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گلوبل پوزیشننگ کے لئے نیا چینی سیٹیلائٹ

خلائی سائنس کے شعبے میں تیز رفتار ترقی کرنے والے ملک چین نے نیوی گیشن اور مقامیت کے سلسلے میں کام آنے والا اپنا چھٹا سیٹیلائٹ خلاء کی طرف روانہ کر دیا ہے۔

default

یہ سیٹیلائٹ جنوب مغربی چینی صوبے سیچوان سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے 3C طرز کے ایک راکٹ کے ذریعے خلاء میں بھیجا گیا۔ Beidou نظام کا حامل یہ سیٹیلائٹ 2020ء سے دنیا بھر میں نیوی گیشن اور وقت سے متعلق اپنی خدمات فراہم کرنا شروع کر دے گا۔

ایشیا بحرالکاہل کے خطے میں اس سے دو سال کے اندر اندر استفادہ کیا جا سکے گا۔ چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق مقامیت جاننے کے لئے Beidou کی اوپن سروسز مقررہ مقام پر دس میٹر کی ریزولیوشن کے ساتھ بلامعاوضہ فراہم کی جائیں گی۔

ایجنسی کے مطابق بااختیار صارفین اور فوجی مقاصد کے لئے زیادہ واضح مقامیت کے ساتھ ساتھ دیگر معلومات بھی دستیاب ہوسکیں گی۔ خلاء میں بھیجے گئے Beidou-2 طرز کے ایسے سیٹیلائٹ کی عمر عموماﹰ آٹھ سال تک ہوتی ہے۔

GPS Navigationssystem Auto

جی پی ایس سے آمد و رفت میں نہایت آسانیاں پیدا ہوگئی ہیں

چین نے اس سلسلے کا پہلا مصنوعی سیارہ سن 2000 میں خلاء کی جانب روانہ کیا تھا، جس کے بعد مزید چار سیٹیلائٹ خلاء میں پہنچا کر چین نے اپنے لئے بنیادی نیوی گیشن کا ایک خلائی نظام تشکیل دے دیا تھا۔

اس جدید نظام کے تحت اب چین اور اس کے اطراف کے ملکوں میں بسنے والوں کی کرہ ء شمالی میں 120 ڈگری طول البلد تک کے علاقے میں مقامیت جانی جا سکے گی۔ یہ کوششیں چین کے اس طویل المدتی منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے تحت وہ عالمگیر سطح پر اپنا ایک نیوی گیشن نظام تشکیل دینا چاہتا ہے۔

امریکی محکمہء دفاع کا بنایا گیا گلوبل پوزیشننگ سسٹم یا GPS نظام دنیا بھر میں مفت نیوی گیشن معلومات فراہم کرتا ہے جبکہ یورپی یونین کے ابھی تک زیر عمل Galileo نامی نظام کے استعمال کے لئے صارفین کو آئندہ غالباﹰ ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔ روس کا بنایا گیا Glonass نظام بھی GPS کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس