1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گلوبل میڈیا فورم اختتام پذیر

ڈوئچے ویلے کے زیر اہتمام، سابق جرمن دارالحکومت بون میں 20 جون سے جاری گلوبل میڈیا فورم آج اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس بار کے اس فورم کا موٹو تھا عالمگیریت کے دور میں انسانی حقوق۔ میڈیا کے لیے چیلنجز۔

default

2011 ء کے گلوبل میڈیا فورم میں شریک پاکستان کی معروف صحافی نوین نقوی

اسی موضوع کی مناسبت سے ان تین دنوں کے دوران متعدد ورکشاپس اور فورمز کا انعقاد ہوا جن میں دنیا بھر سے آئے ہوئے ماہرین اور میڈیا کے نمائندوں نے حصہ لیا۔

نائن الیون کے بعد سے مغربی میڈیا میں اسلامی دنیا کی صورتحال اور بحران زذہ علاقوں کے بارے میں ذرائع ابلاغ کے کوریج جیسے موضوعات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی عالمگیریت کے دور میں انسانی حقوق کی صورتحال کو بھی میڈیا کی غیر معمولی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ یوں تو 2011 ء کے گلوبل میڈیا فورم میں ان اہم موضوعات پر متعدد مباحثوں اور ورکشاپس کا انعقاد ہوا تاہم ان میں سے چند قابل زکر ہیں۔

Global Media Forum GMF 2011 Monika Hauser

میڈیکا مونڈیالے کی بانی مونیکا ہاؤزر

حقوق نسواں کے لیے سرگرم جرمنی میں قائم ایک مشہور غیر سرکاری تنظیم ’میڈیکا مونڈیالے‘سے منسلک صحافی اور فلم ساز Sybille Fezer نے میڈیا میں جنسی تشدد کی شکار خواتین کے بارے میں کوریج سے متعلق چند اہم نقطوں پر زور دیا۔ انہوں نے کہا ’ایک صحافی کو جنسی تشدد کی شکار خاتون کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس امر کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی ایسا بیان سامنے نہ آئے جس سے یہ احتمال ہو کہ یہ خاتون دوبارہ اس قسم کی زیادتی کا نشانہ بنے گی۔ یعنی اس مظلوم کی کہانی کے بارے میں رپورٹٹنگ کرتے ہوئے بہت محتاط رہنا چاہیے، کیونکہ جنگ اور مختلف بحران زدہ علاقوں میں جنسی تشدد کا شکار بننے والی خواتین جو ہماری تنظیم تک پہنچتی ہیں، وہ بے حد بہادری کا ثبوت دیتی ہیں اور یہ دیگر ایسی خواتین کو اپنے تجربے کی روشنی میں ہدایات دے سکتی ہیں کہ وہ ایسی صورتحال میں اپنا تحفظ کس طرح کر سکتی ہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے کے بعد بھی اپنی جانوں کی حفاظت کرتے ہوئے کس طرح محفوظ ٹھکانوں تک پہنچ سکتی ہیں‘۔

Deutsche Welthungerhilfe in Sarwan Indien

’ورلٹ ہونگر ہلفے‘ بھارت میں بھی سرگرم ہے

آج اختتام پذیر ہونے والے گلوبل میڈیا فورم میں ایک اوراہم ورکشاپ ’خوراک بمقابلہ ایندھن‘ کےعنوان سے منعقد ہوا۔ یہ ایک انتہائی حساس موضوع ہے کیونکہ عالمگیریت کے اس دور میں ایک طرف غریب پسماندہ ممالک کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے دوسری جانب امیر اور ترقی یافتہ ریاستیں انسانوں کی بھوک مٹانے کے بجائے فصلوں سے ایندھن پیدا کرنے کے لیے جدید تکنالوجی کا استعمال کر رہی ہیں۔ جرمن ادارے ’ ولٹ ہونگر ہلفے‘ کی صدر Bärbel Dieckmann کے بقول ’دنیا میں بھوک کے شکار افراد کا دو تہائی حصہ دیہی علاقوں میں آباد ہے۔ یہی سب سے زیادہ دُکھ کی بات ہے کیونکہ یہی وہ علاقہ ہے جہاں فصلیں اگائی جاتی ہیں‘۔

Bärbel Dieckmann نے کہا کہ اقرام متحدہ، ورلڈ بینک اور ’فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن‘FAO سمیت یورپی یونین اورترقی پذیر ممالک کے سیاستدانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بائیو ایندھن یا بائیو انرجی کی پیداوار کے لیے زراعتی زمین کے استعمال میں روز بروز اضافے جیسے مسئلے کا حل تلاش کریں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حُسین

DW.COM

ویب لنکس