1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گزشتہ تیس برسوں میں دریافت ہونے والا سب سے بڑا خزانہ

اسرائیلی غوطہ خوروں نے بحیرہ روم کی قدیم بندرگاہ قیصریہ کے قریب ایک ایسا بحری جہاز دریافت کیا ہے، جو سینکڑوں سال پہلے غرق ہو گیا تھا۔ اس جہاز سے انتہائی نایاب اور قدیمی نوادرات ملے ہیں۔

اسرائیل سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق قیصریہ کی قدیم بندرگاہ کے قریب سے دریافت ہونے والا بحری جہاز 16 سو برس قبل غرق ہو گیا تھا۔ اس مال بردار جہاز سے کانسی کے نایاب مجسموں سمیت ہزاروں سکے ملے ہیں۔ قدیم دریافتوں اور اشیاء سے متعلق اسرائیلی اتھارٹی آئی اے اے کے مطابق گزشتہ تیس برسوں میں دریافت ہونے والا یہ سب سے بڑا خزانہ ہے۔

سب سے پہلے اس جہاز کا پتا اسرائیل کے دو غوطہ خوروں کو چند ہفتے پہلے چلا تھا، جنہوں نے اسرائیلی حکام کو مطلع کیا۔ اسرائیلی اتھارٹی آئی اے اے نے اس جگہ اپنے غوطہ غوروں کو بھیجا، جہاں دو نجی غوطہ غوروں کو یہ نمونے ملے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ڈوبنے والا یہ جہاز مکمل طور پر ریت کے نیچے دبا ہوا تھا اور اس کے صرف چند حصے ہی ریت سے اوپر دیکھے جا سکتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ جہاز رومیوں کے دور میں ڈوبا تھا اور اسی وجہ سے ملنے والے تمام نوادرات اور سکے اسی دور کے ہیں۔

اسرائیلی حکام نے مزید بتایا ہے کہ ملنے والے مجسمے حیران کن طور پر اچھی حالت میں ہیں۔ ایک ملنے والی موم بتی رومیوں کے سن گاڈ ( سورج کے دیوتا) کی عکاس ہے۔ اسی طرح قمری دیوی لُونا کے ایک مجمسے کے ساتھ ساتھ ایک ایسا مجسمہ بھی ملا ہے، جو ایک افریقی غلام کا ہے، جس میں وہ پانی کا ایک برتن اٹھائے ہوئے ہے۔

ایک برس پہلے اسی جگہ سے رومن دور کے ایسےدو ہزار سکے ملے تھے، جو سونے کے تھے۔

اسرائیل میں آثار قدیمہ کے میرین یونٹ کے مینیجر ڈرور پیلنر کا مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ یہ انتہائی خوش کن دریافت ہے اور ملنے والے مجسمے غیرمعمولی خوبصورت ہیں۔ ان کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے۔‘‘

آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق، ’’ اس جہاز سے ملنے والے نمونوں اور اور زیر سمندر اس کے ٹوٹ کر بکھرنے کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک تجارتی جہاز تھا اور غالباﹰ اس وقت غرق ہوا، جب یہ ساحل کے بالکل قریب تھا۔ زیادہ تر امکان یہی ہے کہ یہ طوفان میں پھنس گیا تھا اور تیز ہواؤں کے سبب پتھروں سے ٹکراتے ہوئے تباہ ہو گیا۔‘‘

ماہرین آثار قدیمہ نے کہا ہے کہ مجسموں کو ریت نے ڈھانپ لیا تھا اور یہی وجہ ہے کہ وہ بہت اچھی حالت میں ہیں۔