1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گزشتہ برس چینی فلم صنعت کے لیے ریکارڈ ساز

چین کی فلمی صنعت کے لئے 2010ء ایک ریکارڈ ساز سال ثابت ہوا ہے۔ اس عرصے میں وہاں باکس آفس پر فلمی صنعت کی مجموعی آمدنی ڈیڑھ ارب ڈالر رہی ہے۔ اس کے باوجود مقامی فلموں کو سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔

default

اداکارہ گونگ لی

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شاندار کارکردگی کے باوجود گزشتہ برس ملکی فلمی صنعت کو ہالی وُڈ کی بلاک بسٹر فلموں سے سخت مقابلے کا سامنا رہا ہے۔

چینی اخبار ’چائنا ڈیلی‘ نے ریڈیو، فلم اور ٹیلی ویژن کے اسٹیٹ فلم بیورو کے حوالے سے بتایا ہے کہ 2010ء میں زیادہ سے زیادہ افراد نے سنیما گھروں کا رُخ کیا، جس کی بدولت نیشنل باکس آفس کی آمدنی تقریباﹰ 64 فیصد زائد رہی ہے۔

اس ادارے کے سربراہ ٹونگ گانگ کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کوئی چھوٹی رقم نہیں، لیکن اس کامیابی کو زیادہ اچھالنا بھی مناسب نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’اوتار‘ اور ’اِن سیپشن‘ جیسی کامیاب فلموں کو ٹکر دینا ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقائی کامیاب ترین فلمیں بھی ہالی وُڈ کی اِن بلاک بسٹرز سے بہت پیچھے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ چین میں گزشتہ برس سب سے زیادہ بزنس کرنے والی فلم ’آفٹر شاک‘ تھی، جس کی آمدنی 673 ملین یوآن رہی۔

Eröffnung der Berlinale 2010 in Berlin

چین کی اداکارہ مونیکا مو

’اَوتار‘ اور ’اِن سیپشن‘ کی آمدنی گزشتہ برس میں چینی باکس آفس کی مجموعی آمدنی کے 20 فیصد کے برابر رہی ہے۔ گانگ تسلیم کرتے ہیں کہ چین میں ابھی تک معیاری فلموں کا فقدان ہے۔

دوسری جانب ’آفٹر شاک‘ کے ڈائریکٹر فینگ شیاؤگانگ اور دیگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان کی فلموں کا معیار اسٹیٹ ایڈمنسٹریشن آف ریڈیو، فلم اینڈ ٹیلی ویژن کے سینسر کی نذر ہو جاتا ہے، جس کے باعث چینی فلمیں کوئی بھی کمال دکھانے میں ناکام ہو جاتی ہیں۔

گزشتہ برس چین میں 526 فیچر فلمیں بنائی گئیں۔ یہ تعداد 2009ء کے مقابلے میں 15فیصد زیادہ ہے۔ یوں بالی وُڈ اور ہالی وُڈ کے بعد یہ دنیا کی تیسری بڑی فلمی صنعت ہے۔

بیجنگ حکام اس بات پر زور دیتے رہتے ہیں کہ چین کو اپنی ثقافتی صنعتوں کو وسیع کرنے کی ضرورت ہے، جو مجموعی ملکی پیداوار کے دو فیصد کے برابر ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM