گزشتہ برس نئی دہلی میں یومیہ چھ خواتین ریپ کا شکار ہوئیں | حالات حاضرہ | DW | 31.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گزشتہ برس نئی دہلی میں یومیہ چھ خواتین ریپ کا شکار ہوئیں

بھارتی حکام کی طرف سے جاری کردہ اعدادوشمارکے مطابق 2015 کے دوران ملک بھر میں جنسی زیادتی کے 34 ہزار چھ سو واقعات جبکہ جنسی حملوں کے ایک لاکھ تیس ہزار کیس درج کیے گئے۔ زیادہ تر متاثرہ خواتین حملہ آوروں کو جانتی ہیں۔

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے اعدادوشمار کے مطابق سن 2015 کے دوران جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد چونتیس ہزار چھ سو بنتی ہے لیکن امکان ہے کہ حقیقت میں ایسے کیسز کی تعداد کہیں زیادہ ہو گی۔ یہ صرف وہ کیس ہیں، جو منظر عام پر آ سکے ہیں یعنی تھانوں میں رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔

اسی طرح ملک بھر میں مختلف قسم کے دیگر جنسی حملوں کا شکار بننے والی خواتین کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار کے بتائی گئی ہے۔ ان خواتین میں چھ برس سے لے کر ساٹھ برس سے زائد عمر کی خواتین بھی شامل ہیں۔ این سی آر بی نے باقاعدہ طور پر یہ رپورٹ بدھ کے دن جاری کی ہے۔

بھارتی حکومت ایک طویل عرصے سے خواتین کو جنسی تشدد یا زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کے خلاف کوشش میں ہے۔ بھارت میں البتہ اس حوالے سے حکومت زیادہ فعال سن 2012 میں اس وقت ہوئی تھی، جب دارالحکومت نئی دہلی میں ایک لڑکی کو چلتی بس میں ہی اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق سن 2014 کے مقابلے میں سن 2015 میں جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد میں 950 کا اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی اخبار انڈین ایکسپرس نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی زیادہ تر خواتین اپنے حملہ آوروں کو بخوبی جانتی ہیں۔

اس رپورٹ کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی خواتین کے لیے سب سے زیادہ غیر محفوظ قرار دیا گیا ہے، جہاں گزشتہ برس خواتین کے خلاف جنسی حملوں کے نو ہزار ایک سو کیس ریکارڈ کیے گئے۔ ان میں دو ہزار دو سو ایسی خواتین بھی شامل ہیں، جنہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یوں گزشتہ برس نئی دہلی میں اوسطا ہر دن چھ خواتین کو رَیپ کیا گیا۔

DW.COM