1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

گزشتہ برس دو لاکھ اسّی ہزار نئے مہاجرین جرمنی پہنچے

جرمن وزارت داخلہ کے مطابق سن 2016 کے دوران ملک میں نئے مہاجرین کی آمد میں کمی دیکھی گئی۔ جرمنی پہنچنے والے مہاجرین کی گزشتہ برس کے دوران تعداد سن 2015 کے مقابلے میں انتہائی کم رہی۔

جرمن وزارت داخلہ کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2016 میں جرمنی میں داخل ہونے والے سیاسی پناہ کے متلاشی افراد کی تعداد دو لاکھ 80 ہزار رہی۔ سن 2015 میں جرمنی پہنچنے والے ایسے مہاجرین کی تعداد آٹھ لاکھ 90 ہزار تھی۔ سن 2015 کے دوران ایک ملین سے زائد مہاجرین کی آمد نے یورپی یونین کو ایک بحران میں مبتلا کر دیا ہے اور یورپی سیاسی منظر نامے پر ہلچل پیدا ہو گئی جبکہ کئی ملکوں میں مہاجرین مخالف سیاسی پارٹیوں کو مقبولیت بھی حاصل ہوئی تھی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سن 2016 کے مہاجرین سے متعلق اعداد و شمار یقینی طور پر رواں برس کے پارلیمانی انتخابات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایسے اندازے بھی لگائے گئے ہیں کہ رواں برس کے جرمن پارلیمانی الیکشن میں مہاجرین کی آمد اور ان کا معاشرتی انضمام خاص طور پر انتخابی مہم کا حصہ ہوں گے۔ چانسلر میرکل نے سن 2015 سے مہاجرین کی آمد کو کنٹرول کرنے کی جو پالیسی اپنائی ہے، اُس کا سختی سے نفاد کیا جا رہا ہے۔

جرمن وزیر داخلہ تھوماس ڈے میزیئر کے مطابق جرمنی میں سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد واپس جانے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک واپسی کا عمل تسلی بخش نہیں ہے۔ جرمن حکام کے مطابق 80 ہزار مہاجرین رضاکارانہ طور پر یا پھر زبردستی ملک بدر کیے جا چکے ہیں۔

Abschiebung abgelehnter Asylbewerber nach Afghanistan (Reuters/R. Orlowski)

جرمنی سے افغانستان روانہ کیے گئے پناہ گزینوں کی پہلی پرواز سن 2016 دسمبر میں روانہ ہوئی تھی

ڈے میزیئر کے مطابق سن 2015 میں پینتیس ہزار مہاجرین نے رضاکارانہ بنیادوں پر واپس اپنے اپنے وطن جانے کا فیصلہ کیا تھا اور سن 2016 میں ایسے مہاجرین کی تعداد 55 ہزار رہی۔ جرمن وزیر داخلہ نے گزشتہ برس جرمنی سے زبردستی واپس بھیجے جانے والوں کی تعداد 25 ہزار بتائی۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس سات لاکھ 45 ہزار سے زائد مہاجرین کی جانب سے سیاسی پناہ کی درخواستوں کا اندراج کیا گیا۔ یہ سن 2015 کے مقابلے میں دو لاکھ 68 ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں دی جانے والی درخواستیں تھیں۔ گزشتہ برس سیاسی پناہ کی سب سے زیادہ درخواستیں شامی مہاجرین کی تھیں۔ اُن کے بعد افغان باشندے اور پھر عراقی شہری رہے۔

جرمنی میں ترک وطن اور پناہ گزینوں کے وفاقی ادارے کو ملک میں داخل ہونے والے مہاجرین کی درخواستوں پر حتمی فیصلے کا اختیار سونپا گیا ہے اور اُس نے اب تک سات لاکھ کے قریب درخواستوں کی چھان بین کا عمل مکمل کیا ہے۔ اس ادارے نے ساٹھ فیصد درخواست گزاروں کی مکمل مہاجرین یا ثانوی درجے کے پناہ گزینوں کے طور پر حیثیت کو تسلیم کر لیا ہے۔