1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گرین ہاؤس گیسیں انسانی صحت کے لئے مضر:امریکی رپورٹ

موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر اقوام متحدہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس کا آج دوسرا دن ہے۔ اس کانفرس کے آغاز پر ہی امریکی حکومت کا بیان سامنے آیا ہے کہ سبز مکانی گیسیں ماحول کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لئے بھی مضر ہیں۔

default

امریکی ادارہ برائے تحفظ ماحولیات EPA نے کانگریس کی منظوری کے بغیر ہی، سبز مکانی گیسوں کے حوالے سے ضوابط طے کرنے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔ EPA کے اس رپورٹ کے بعد کہ سبنز مکانی گیسیں انسانی صحت کے لئے بھی نقصان دہ ہیں، اس ایجسنی کے پاس اب یہ استحقاق آگیا ہے کہ وہ کانگریس میں قانون سازی کے بغیر ہی اس حوالے سے ضوابط طے کر سکے۔

EPA آئندہ سال سے ہی ماحولیات کے سلسلے میں بنائے گئے موجودہ قوانین کے مطابق ضوابط بنائے گی۔ ان میں گاڑیوں اور ٹرانسپورٹ کے علاوہ توانائی اور بھاری صنعتوں کی طرف سے سبنز مکانی گیسوں کے اخراج میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔

کوپن ہیگن کانفرنس کے آغاز پر اس امریکی اعلان کو اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کہ سبنز مکانی گیسیں انسانی صحت کے لئے مضر ہیں۔

Aktionen anlässlich der Klimakonferenz in Kopenhagen

گرین ہاؤس گیسوں کے زمین پر منفی اثرات کا ایک علامتی اظہار

امریکی ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ EPA نے کہا کہ اس حوالے سے فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کوپن ہیگن روانہ ہونے سے قبل صدر دفتر میں ،صحافیوؓں سے گفتگو کرتے ہوئے EPA کی ایک اعلیٰ اہلکار لیزا جیکسن نے کہا کہ اس تحقیق کے منظر عام پر آنے کے بعد، اب سبنز مکانی گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لئے اصلاحات ناگزیر ہیں۔

لیزا جیکسن نے کہا: ’’ ہم کوپن ہیگن میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں اس عزم کے ساتھ آئیں ہیں کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے چیلنج سے نمٹا جائے۔ میں امید کرتی ہوں کہ اس اعلان کے نتیجے میں ، ہمیں اب یہ تقویت ملے گی کہ ہم طویل المدتی منصوبوں کو حتمی شکل دیں سکیں۔‘‘

امریکی عدالت عظمیٰ نے سن 2007ء میں فیصؒلہ سنایا تھا کہ EPA ’کلین ائیر ایکٹ‘ کے مطابق سبنز مکانی گیسوں کے اخراج کے حوالے سے ضوابط بنا سکتا ہے اور ان پر عملدر آمد بھی کروا سکتا ہے۔ تاہم سابق امریکی صدر بش کے دور میں EPA نے کہا تھا کہ اس حوالے سے امریکی کانگریس کو ہی کوئی قدم اٹھانا چاہئے۔

امریکہ کے تجارتی حلقے نے EPA کی اس رپورٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ طویل کساد بازاری کے بعد ان ضوابط کے لاگو ہونے سے امریکی معیشت دوبارہ خراب ہو گی اور روزگار کے مواقع میں کمی آئے گی۔

اسی طرح کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس مخصوص وقت میں اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ امریکی حکومت دنیا کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔

ڈنمارک کے دارالحکومت میں منقعدہ بارہ روزہ اس کانفرسن میں دنیا کے 192 ملکوں ‍ کے تقریباً پندرہ ہزار مندوبین اور صحافی شریک ہیں۔ اس سمٹ میں عالمگیر ماحولیاتی تبدیلی اور زمینی درجہء حرارت پر قابو پانے سے متعلق کسی ایسے سمجھوتے پر اتفاق کی کوشش کی جائے گی، جو کیوٹو پروٹوکول کا متبادل بن سکے۔

رپورٹ : عاطف بلوچ

ادارت : کشور مصطفیٰ