1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گرین پارٹی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانوی پارلیمان میں

برطانیہ میں منعقد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں گرین پارٹی پہلی مرتبہ ایوانِ زیریں کی ایک نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ یہ نشست اِس پارٹی کی قائد کیرولین لُوکاس نے انگلینڈ کے جنوبی ساحلی علاقے برائٹن پویلی سے جیتی۔

default

لندن: برطانوی پارلیمان کا ایک منظر

49 سالہ کیرولین لُوکاس 1999ء سے یورپی پارلیمان کی رُکن چلی آ رہی تھیں۔ اُنہوں نے جس نشست پر کامیابی حاصل کی ہے، وہاں سے گزشتہ انتخابات میں لیبر پارٹی کا اُمیدوار جیتا تھا۔ اِس مرتبہ لُوکاس نے نہ صرف لیبر پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا بلکہ اُنہوں نے کنزرویٹو ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ یونائیٹڈ کنگڈم انڈی پینڈینس پارٹی (UKIP)، سوشلسٹ لیبر پارٹی، سٹیزنز فار اَن ڈَیڈ رائٹس اینڈ ایکویلیٹی اور ایک آزاد اُمیدوار کا بھی مقابلہ کرتے ہوئے یہ نشست جیتی۔

جرمنی سمیت یورپ کے بہت سے ملکوں میں ماحول پسند گرین جماعتیں بہت پہلے پارلیمان تک پہنچ چکی ہیں اور جرمنی، فرانس، بیلجیئم، فن لینڈ اور آئرلینڈ میں تو وہ بڑی جماعتوں کے ساتھ اتحاد بناتے ہوئے مخلوط حکومتوں میں بھی جگہ پا چکی ہیں لیکن برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں گرینز کے لئے کوئی نشست حاصل کرنے کا یہ پہلا موقع ہے۔

Grüne mit Bart im Bundestag

80ء کے عشرے میں وفاقی جرمن پارلیمان میں پہنچنے والے گرین پارٹی کے ابتدائی اراکینِ پارلیمان

کامیابی کے بعد اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کیرولین لُوکاس نے کہا:’’آج کی رات برائٹن پویلین کے شہریوں نےوَیسٹ مِنسٹر کے لئے پہلا گرین رکنِ پارلیمان منتخب کرتے ہوئے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں، اُس اعتماد کے لئے، جو آپ نے مجھ پر اور گرین پارٹی پر کیا ہے۔ بہت شکریہ کہ آپ نے اُمید کی سیاست کو خوف کی سیاست پر ترجیح دی ہے۔‘‘

انگلینڈ اور ویلز میں گرین پارٹی سب سے پہلے سن 1973ء میں منظرِ عام پر آئی تھی۔ اِس پارٹی کو پہلی بڑی کامیابی سن 1999ء میں ملی تھی، جب اِس کے دو ارکان یورپی پارلیمان کے رکن منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اِن میں سے ایک کیرولین لُوکاس تھیں، جو 1986ء میں اِس جماعت میں شامل ہوئی تھیں۔

لُوکاس کی یورپی پارلیمان کی نشست اب برطانوی گرین پارٹی کے رکن کِیتھ ٹیلر کو مل جائے گی، جنہوں نے 2005ء کے پارلیمانی انتخابات میں برائٹن پویلین ہی کے حلقے سے شرکت کی تھی۔ وہ یہ نشست جیت تو نہیں سکے تھے تاہم بائیس فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر رہے تھے۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: مقبول ملک