1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گرین لینڈ کی برف انتہائی تیزی سے پگھلتی ہوئی

سن دو ہزار تین اور دو ہزار دس کے درمیان گرین لینڈ پر برف کے پگھلنے کی رفتار بیسویں صدی کے مقابلے میں تین گنا تیز تھی۔ گزشتہ تقریباﹰ ایک سو دس برسوں میں گرین لینڈ کی نو ہزار گیگا ٹن برف پگھل گئی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ گرین لینڈ میں اتنی زیادہ مقدار میں برف پگھل چکی ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران برف کے پگھلاؤ میں ڈرامائی حد تک تیزی آئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ گرین لینڈ پر سن دو ہزار تین تک سالانہ تقریبا 75 گیگا ٹن برف پگھلتی تھی لیکن اس کے بعد برف پگھلنے کے عمل میں تین گنا اضافہ ہوا ہے اور اب سالانہ بنیادوں پر ایک سو چھیاسی گیگا ٹن سے زائد برف پگھل رہی ہے۔

ماحولیاتی تبدیلیوں اور زمینی درجہ حرارت میں اضافےکی وجہ سے دنیا بھر میں برف پگھلنے کا عمل جاری ہے اور سطح سمندر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن اب سائنسدانوں کا خیال ہے کہ سطح سمندر میں پچیس ملی میٹر کا اضافہ گرین لینڈ کے گلیشئرز کے پگھلنے کی وجہ سے ہوا ہے۔ یہ مجموعی سطح سمندر میں اضافے کا اٹھارہ فیصد بنتا ہے۔

سائنسدانوں کے خیال میں بارہویں صدی سے لے کر انیسویں صدی کے آغاز تک گرین لینڈ میں برفانی دور تھا اور اس دوران یہ علاقہ مکمل طور پر برف میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کے بعد گرم موسم کا آغاز ہوا اور گلیشئرز نے سکڑنا شروع کر دیا۔ ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق تحقیقی ادارے الفریڈ ویگنر انسٹی ٹیوٹ کے پروفیسر کلاؤس گروس فیلڈ کہتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی چیز ہے کی برفانی دور کے بعد گرم دور کا آغاز ہو لیکن انسانوں نے اس عمل کو تیز کر دیا ہے، ’’ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ بہت بڑی تبدیلی آ رہی ہے۔‘‘ اور یہ تبدیلی موسمیاتی تبدیلی ہے۔

سن دو ہزار بارہ کے بعد رواں برس گرین لینڈ میں برف پگھلنے کی رفتار سب سے تیز رہی۔ کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی میں امریکا کے قومی سنو اینڈ آئس ڈیٹا سینٹر کی رپورٹ کے مطابق اگر گزشتہ ستائیس برسوں کی سیٹلائیٹ تصاویر کا جائزہ لیا جائے تو رواں برس گیارہویں مرتبہ سب سے زیادہ برف پگھلی ہے۔ اور یہ صرف گرین لینڈ نہیں ہے۔ ماحولیاتی ادارے این او اے اے کی رپورٹ کے مطابق آرکٹک بھی گرم ہوتا جا رہا ہے۔ آرکٹک میں درجہ حرارت اوسط سے ایک عشاریہ تین گریڈ سیلسیس زائد ریکارڈ کیا گیا ہے اور ایسا گزشتہ 115 برسوں میں نہیں ہوا ہے۔ وہاں بیسویں صدی کے آغاز سے لے کر اب تک درجہ حرارت تین گریڈ زیادہ ہو چکا ہے۔

محقیقین کے مطابق ان نئے اعداد و شمار سے یہ بات مزید واضح ہو گی کہ کیا کچھ واقعی داؤ پر لگا ہوا ہے۔