1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

گرو سری سری روی شنکرامن پھیلائیں گے یا ماحولیاتی آلودگی؟

معروف بھارتی گرو سری سری روی شنکر نے مارچ کے اواخر میں دریاء جمنا کے کنارے امن کے فروغ کے لیے جس تین روزہ میلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے اس پر تحفظ ماحولیات کے لیے سرگرم عناصر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

ماحولیات پسندوں کا کہنا ہے کہ یہ ایونٹ نئی دہلی کے پہلے سے انتہائی آلودہ ماحولیاتی نظام کو مزید خراب کرنے کا سبب بنے گا۔

رواں ماہ یعنی مارچ کے آخری ہفتے میں نئی دہلی انتظامیہ کو قریب 3.5 ملین افراد کی اُس ایونٹ میں شرکت کا بندوبست کرنا ہے جسے گرو سری سری روی شنکر کے ایما پر منعقد کیا جائے گا۔ گورو کے بقول وہ اس تین روزہ میلے کا انعقاد ’امن کے نام‘ پر کر رہے ہیں۔ دوسری جانب تحفظ ماحول کے لیے سرگرم عناصر گرو سری سری روی شنکر کے اس اقدام کی سخت مخالفت اور اس پر کڑی تنقید کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ ورلڈ کلچرل فیسٹیول یا عالمی ثقافتی میلہ دریائے جمنا کے کنارے منعقد کیا جا رہا ہے اور یہ میلہ ماحولیات پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گا۔ ماحول دوست آنند آریا کے بقول،’’ساڑھے تین ملین شرکا اس تین روزہ ایونٹ میں شریک ہوں گے۔ اس کا مطلب ہوا دو لاکھ دس ہزار ٹن وزن اس علاقے کے نازک ماحولیاتی نظام پر پڑے گا۔‘‘ آنند نے بھارت کی ماحولیاتی امور کی اعلیٰ کورٹ میں اپیل کی ہے کہ اس میلے کو منسوخ کردیا جائے۔ آنند کا مزید کہنا تھا،’’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ ایونٹ امن اور عدم تشدد کے داعی کی طرف سے منعقد کیا جا رہا ہے۔‘‘

Indien Neu Delhi Baustelle World Culture Festival Sri Sri Ravi Shankar

اس ورلڈ ایونٹ کے لیے نئی دہلی میں بڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹس پر کام ہو رہا ہے

'لائیو جمنا کیمپین‘ سے تعلق رکھنے والے منوج مشرا بھی فیسٹول کے مخالفین کی مہم کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اُن کے خیال میں جمنا اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کو مزید نقصان پہنچنے سے بچانے کی کوشش میں اِس میلے کا انعقاد نہ ہونا بہتر ہے۔ مشرا کا کہنا ہے کہ زمین کا 1000 ایکڑ رقبے کو اس ایونٹ کے لیے صاف کر دیا گیا ہے اور اِس وسیع علاقے میں ایک بڑے اسٹیج، دریائی گزرگاہ میں کشتیوں کا پل، منتقل ہو جانے والے کیبن اور پارکنگ کا راستہ بنایا جائے گا۔

مشرا کہتے ہیں،’’ اِس علاقے سے تمام تر جنگلاتی جھاڑیاں، سرسبز وشاداب درختوں اور فصلوں کو کاٹ کرختم کر دیا گیا ہے، یہ سب محض ڈھائی، تین روز کے ایک میلے کے لیے ہے۔ یہ اقدامات پورے علاقے کے ماحولیاتی نظام پر گہرے منفی اثرات مرتب کرے گا۔‘‘ دوسری جانب اس ایونٹ کا انعقاد کرنے والی فاؤنڈیشن کے اہلکاروں نے ایک بیان میں کہا،’’ہم نے اس عارضی تعمیراتی مرحلے کے لیے ماحول دوست لکڑی، مٹی، کپڑا، اور دیگر مواد استعمال کیا ہے۔‘‘

11 مارچ سے شروع ہونے والے اس میلے کے میزبان اور روحِ رواں گرو سری سری روی شنکر ہوں گے۔ اِس گرو کو امریکا کے فوربز میگزین نے بھارت کی پانچویں طاقتور شخصیت قرار دے رکھا ہے۔ اِس ثقافتی میلے میں شریک ہونے والوں اور گرو کے مداحوں میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہوں گے۔

DW.COM