1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’گرل فرینڈ‘ کا فیس بُک اکاؤنٹ ہیک کرنے کا الزام، درخواست ضمانت مسترد

پاکستانی سپریم کورٹ نے اپنی ایک سابقہ کلاس فیلو کا فیس بُک اکاؤنٹ ہیک کرنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت پر رہائی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

Symbolbild Facebook

صوبہ خیبر پختوانخواہ کے رہائشی نوجوان محمد منیر نے پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست منسوخ ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صوبہ خیبر پختوانخواہ کے رہائشی نوجوان محمد منیر کے خلاف اپنی ایک سابقہ گرل فرینڈ شگفتہ امین کا فیس بُک اکاؤنٹ غیر قانونی طریقے سے چلانے کے الزام میں الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس اور تعزیزاتِ پاکستان کی دفعات کے علاوہ نادرا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

درخواست گزار نے ایف آئی اے کو بتایا تھا کہ کسی نامعلوم شخص نے اس کے نام سے فیس بُک کا جعلی اکاؤنٹ قائم کر رکھا ہے اور وہ اس کی ذاتی تصاویر بھی بلا اجازت اَپ لوڈ کر رہا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق انہوں نے اس درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے ملزم کو اپنی سابقہ کلاس فیلو کا فیس بُک اکاؤنٹ استعمال کرتے ہوئے ’رنگے ہاتھوں‘ گرفتار کر لیا۔ ایف آئی اے کے مطابق تفتیشی ٹیم نے فیس بُک انتظامیہ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے تعاون سے ملزم کو کے پی کےکے ضلع ہری پور کے کوآرڈینیشن آفیسر کے دفتر سے گرفتار کیا۔ ملزم محمد منیر ڈی سی او آفس میں بطور کمپیوٹر آپریٹر کام کر رہا تھا۔

ملزم نے پشاور ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست منسوخ ہونے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ملزم کے وکیل بیرسٹر مسرور شاہ نے سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ اس کے مؤکل کو دھوکے سے پھنسایا جا رہا ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ملزم منیر اور مدعیہ شگفتہ پشاور یونیورسٹی میں اکٹھے پڑھتے تھے اور اسی وقت سے دونوں کے درمیان ’تعلقات‘ قائم تھے۔ مدعیہ نے خود ملزم کو اپنا فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے لیے کہا تھا۔

Symbolbild Facebook

’الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس کی دفعہ چھتیس اور سینتیس کے تحت کوئی بھی غیر مجاز شخص اگر کسی کا ای میل یا جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولے اور اس کا استعمال کرے تو اس کو سات سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے‘

عدالت نے ملزم کے وکیل کو دونوں کے درمیان تعلقات کی وضاحت کرنے کے لیے کہا تو وکیل نے کہا کہ شگفتہ دراصل منیر کی سابقہ ’گرل فرینڈ‘ تھی اور تعلقات خراب ہونے پر اس نے ملزم کے خلاف جھوٹا مقدمہ قائم کرا دیا۔ اس پر عدالتی بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس امیر ہانی مسلم نے وکیل کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مغربی معاشرے میں نہیں رہ رہے، ہمارے معاشرے میں اس طرح کے کسی تعلق کی گنجائش نہیں۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ایف آئی اے کو پندرہ دن میں چالان مکمل کر کے ٹرائل کورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

ملزم کے وکیل بیرسٹر مسرور شاہ نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت نے اس مقدمے کے قانونی پہلوؤں کی بجائے اخلاقیات کو سامنے رکھ کر فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے اثرات بہت سخت ہو سکتے ہیں کیونکہ ابھی جو نیا قانون بن رہا ہے سائبر کرائم کا وہ بہت سخت ہے اور اس میں اگر کوئی بے گناہ شخص بھی پھنس گیا تو اس کو سخت سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاور ہمارے تفتیشی اداروں کی کارکردگی کا حال تو سب کو پتہ ہی ہے‘۔

خیال رہے کہ پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کیے دوران مختلف شہروں خصوصاً کراچی میں بھی ایسے مقدمات سامنے آئے ہیں، جہاں پر سوشل میڈیا کا غلط استعمال کرنے پر ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ سے منسلک ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان کے پاس اب تک درج کیے گئے مقدمات میں سے ساٹھ فیصد کا تعلق سوشل میڈیا سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے اس وقت سائبر کرائم کی روک تھا م کے لیے الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس اور تعزیراتِ پاکستان کی دفعات کے تحت ملزمان کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’الیکٹرانک ٹرانزیکشن آرڈیننس کی دفعہ چھتیس اور سینتیس کے تحت کوئی بھی غیر مجاز شخص اگر کسی کا ای میل یا جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کھولے اور اس کا استعمال کرے تو اس کو سات سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے‘۔

Pakistan Gericht

ملزم کے وکیل نے کہا کہ جھوٹا مقدمہ دائر کرنے والی شگفتہ دراصل منیر کی سابقہ ’گرل فرینڈ‘ تھی، جس پر عدالتی بنچ کی سربراہی کرنے والے جسٹس امیر ہانی مسلم نے ٹوکتے ہوئے کہا کہ آپ کسی مغربی معاشرے میں نہیں رہ رہے

تاہم ایف آئی اے کے اس افسر کے مطابق اس نوعیت کے مقدمات میں سزا پر عملدرآمد کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف آئی اے کا کام تفتیش مکمل کر کے ملزم کا چالان عدالت میں پیش کرنا ہوتا ہے لیکن نوّے فیصد کے مقدمات میں فریقین اس مرحلے سے پہلے ہی سمجھوتہ کر لیتے ہیں۔

پاکستان میں سائبر کرائم سے نمٹنے سے متعلق نئے قانون پاکستان الیکٹرانک سائبر کرائمز بل کا مسودہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے منظوری کے لیے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو بھجوا رکھا ہے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم کارکن اس قانون کو لوگوں کی ذاتی زندگی میں غیر ضروری مداخلت قرار دیتے ہوئے مسترد کر رہے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات