’گرفتاری سے خائف دہشت گردوں نے برسلز حملے عجلت میں کیے‘ | حالات حاضرہ | DW | 24.03.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’گرفتاری سے خائف دہشت گردوں نے برسلز حملے عجلت میں کیے‘

بیلجیم کی پولیس کے مطابق اپنی ممکنہ گرفتاری سے خائف عسکریت پسندوں نے برسلز میں اکتیس افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے حالیہ خود کش بم حملے اس لیے بظاہر عجلت میں کیے کہ انہیں خدشہ تھا کہ پولیس ان تک پہنچنے ہی والی ہے۔

Belgien Terroranschläge in Brüssel Fahndung Verdächtige

نجم لاشراوی، دائیں، برسلز ایئر پورٹ پر خود کش حملے کرنے والے البکراوی بھائیوں کے ساتھ

برسلز سے جمعرات چوبیس مارچ کو ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق اب تک کی چھان بین سے یہ اشارے ملے ہیں کہ منگل بائیس مارچ کے روز برسلز کے ہوائی اڈے اور شہر کے ایک میٹرو اسٹیشن پر مجموعی طور پر تین خود کش حملے کرنے والے عسکریت پسندوں نے اپنے منصوبوں کو عملی شکل دینے میں اس لیے جلد بازی کی کہ انہیں خوف تھا کہ ان کے گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کا دائرہ تنگ ہوتا جا رہا تھا اور وہ کسی بھی وقت گرفتار کیے جا سکتے تھے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے چیف پراسیکیوٹر فریڈریک وان لِیو کی طرف سے چھان بین کی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ اب تک اس تیسرے مشتبہ ملزم نجم لاشراوی کی تلاش بھی شدت سے جاری ہے، جسے ایئر پورٹ پر خود کش حملے کرنے والے دو دیگر عسکریت پسندوں کے ساتھ سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

Brüssel Terroranschläge Fahndung Verdächtige Najim Laachraoui

اپنی ایک خود کش دھماکے کی کوشش ناکام رہنے کے بعد ایئر پورٹ سے بھاگنے والا نجم لاشراوی جسے پولیس پوری شدت سے تلاش کر رہی ہے

اس کے علاوہ شواہد کی بنیاد پر تفتیشی ماہرین اس نتیجے پر بھی پہنچ چکے ہیں کہ گزشتہ برس نومبر میں پیرس میں اور دو روز قبل برسلز میں خونریز حملے دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے ایک ہی خفیہ سیل کی کارروائی تھے۔

پچھلے سال تیرہ نومبر کو پیرس میں مختلف اہداف پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اسی ہفتے منگل کے روز برسلز میں دو اہداف پر کیے گئے تین خود کش حملوں میں مجموعی طور پر 31 افراد ہلاک اور 270 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ان دونوں حملوں کی ذمے داری شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ قبول کر چکی ہے۔

دیگر خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق بیلجیم کی پولیس اس وقت ایک اور ایسے مشتبہ ملزم کی تلاش بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جس نے مبینہ طور پر برسلز میں میٹرو اسٹیشن پر خود کش حملے کے ملزم کی مدد کی تھی۔

برسلز ایئر پورٹ پر خود کش بم دھماکے دو ایسے شدت پسندوں نے کیے، جن کے نام ابراہیم البکراوی اور خالد البکراوی تھے، جو آپس میں بھائی تھے اور جن سے ان کی ’عام مجرموں کی سی حرکات‘ کے باعث پولیس پہلے سے ہی واقف تھی۔

چیف پراسیکیوٹر وان لِیو کی طرف سے اب تک کی تفتیش کے مطابق ایسے شواہد بھی ملے ہیں کہ جن تین خود کش حملہ آوروں نے برسلز میں بم دھماکے کیے، وہ سکیورٹی اہلکاروں کی طرف سے مسلسل چھاپوں اور اپنے لیے کم پڑتے جا رہے وقت کے سبب بدحواسی کا شکار تھے۔

چیف پراسیکیوٹر کے مطابق ایئر پورٹ پر دوہرے خود کش حملے کے ملزمان البکراوی برادران کی شناخت ہو جانے کے بعد پولیس نے جب ان کی آخری معلوم رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تو گھر کے باہر کوڑے کے ایک کنٹینز سے پولیس کو ایک لیپ ٹاپ کمپیوٹر بھی ملا تھا۔ اس کمپیوٹر کے تفصیلی معائنے کے دوران سافٹ ویئر ماہرین کے ہاتھ مبینہ طور پر ابراہیم البکراوی کا ایک ایسا پیغام بھی لگا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیرس حملوں کے مرکزی زندہ ملزم صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد دونوں البکراوی بھائیوں کی سوچ یہ تھی کہ وہ بھی عنقریب گرفتار کر لیے جائیں گے۔

فریڈریک وان لِیو کے مطابق اس پیغام میں لکھا گیا تھا، ’’میں نہیں جانتا کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔ میں جلدی میں ہوں۔ لوگ مجھے ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ اگر میں خود کو قانون کے حوالے کر دوں تو میں بھی اس (صالح عبدالسلام) کے ساتھ والے سیل میں بند کر دیا جاؤں گا۔‘‘

DW.COM