1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گراونڈ زیرو کے قریب مسجد، اوباما نے حمایت کر دی

امریکی شہر نیو یارک میں سن 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کی جگہ کو گراونڈ زیرو کہتے ہیں، جہاں ایک مسجد کی تعمیر کا منصوبہ کافی عرصے سے متنازعہ ہے اب اس منصوبے کی صدر اوباما نے حمایت کر دی ہے۔

default

صدر اوباما نےپہلی مرتبہ اس حوالے سے مسلمانوں کے موقف کی حمایت کر دی

گراونڈ زیرو کے قریب مسلمانوں کی ایک مسجد اور اس سے ملحقہ اسلامی مرکز کی تعمیر کا منصوبہ کافی عرصے سے متنازعہ تو ہے لیکن ابھی حال ہی میں ایک امریکی عدالت نے بالواسطہ طور پر اپنے ایک فیصلے کے ذریعے اس اسلامی ثقافتی منصوبے کو جائز قرار دے دیا تھا۔

امریکہ میں بہت سے قدامت پسند حلقے، ریپبلیکن سیاستدان اور نیویارک کے بہت سے شہری بھی اس امر کےمخالف ہیں کہ گراونڈ زیرو کے قریب مسلمانوں کا مرکز یا کوئی مسجد تعمیر کی جائے، قریب نو سال پہلے گیارہ ستمبر کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر دہشت گردانہ حملوں میں تقریبا تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

New York

گراونڈ زیرو کے قریب مسجد اور اس سے ملحقہ اسلامی مرکز کی تعمیر کا منصوبہ کافی عرصے سے متنازعہ ہے

نائن الیون کہلانے والے ان دہشت گردانہ واقعات کےپس منظر میں، وہاں مسلمانوں کی ایک بہت بڑی مسجد اور ثقافتی مرکز کی مجوزہ تعمیر کے مخالفین کا کہنا ہے کہ حملہ کرنے والے دہشت گرد انتہا پسند مسلمان تھے اس لئے گراونڈ زیرو کے قریب ایسی کسی مسجد کی تعمیر کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اس بارے میں تازہ ترین پیش رفت اب اس مجوزہ منصوبے کی امریکی صدر کی طرف سے حمایت ہے۔

جمعے کی رات امریکی صدر نے ایک تقریب میں اسلامی ملکوں کے بہت سے سفارتکار وں اور امریکہ میں مسلمان برادری کے سرکردہ ارکان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ گراونڈ زیرو کے قریب مسجد اور اسلامی مرکز کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔

New York: Broadway and 47th Street in Times Square

نیویارک کے بہت سے شہری بھی گراونڈ زیرو کے قریب مسجد کی تعمیر کے خلاف ہیں

باراک اوباما جو ایک افریقی نژاد تارک وطن مسلمان اور مسیحی عقیدے کی ایک امریکی خاتون کی اولاد ہیں، نے کہا کہ وہ ایک شہری کے طور پر اور بطور صدر بھی یہ یقین رکھتے ہیں کہ امریکہ میں مسمانوں کو بھی اسی طرح کی مذہبی آزادی اور حقوق حاصل ہیں، جیسے دیگر مذاہب کے افراد کو۔ اس تقریب میں شریک اکثریتی مسلمان مہمانوں نے تالیاں بجا کر باراک اوباما کے اس موقف کا خیر مقدم کیا۔

امریکی صدر نے کہا کہ یہ بات بھی امریکہ میں ہر کسی کو حا صل مذہبی آزادی کے زمرے میں آتی ہےکی نیو یارک مین ہیٹن کے علاقے کے مسلمان امریکی قوانین کے مطابق اگر کسی نجی ملکیتی جگہ پر اپنی کوئی عبادت گاہ یا اپنا کوئی کمیونٹی سینٹر تعمیر کرنا چاہتے ہیں، تو انھیں اس کی اجازت ہونی چاہئے۔

امریکہ میں گراونڈ زیرو کے عین قریب اس مسجد اور اسلامی ثقافتی مرکز کی تعمیر کا مجوزہ منصوبہ کئی ہفتوں سے بہت منتازعہ ہے اور اس پر شدید بحث بھی جاری ہے ۔ تاہم اب صدر اوباما نےپہلی مرتبہ اس حوالے سے قومی سطح کی بحث میں مسلمانوں کے موقف کی حمایت کر دی ہے۔

نائن الیون کے حملوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ القاعدہ کا مقصد اور پیغام اصل اسلام نہیں بلکہ اس دہشت گرد نیٹ ورک نے اسلام کے اصلی پیغام کو مسخ کیا ہے۔

گراونڈ زیرو کے قریب مسجد کی تعمیر کے مجوزہ منصوبے کےتحت وہاں ایک ایسی تیرہ منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی۔ جس میں مسجد قرطبہ کے نام سے ایک مسلم عبادت گاہ بھی شامل ہو گی اور قرطبہ ہاؤس کمیونٹی سینٹر کے نام سے مسلمانوں کا ایک کثیر المقصد سماجی اور ثقافتی مرکز بھی۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس