1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

نائن الیون اور اس کے عالمی اثرات

گراؤنڈ زیرو پر موجود پولیس اہلکار گلین کلائن کا شخصی خاکہ

بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح پولیس اہلکار گلین کلائن گیارہ ستمبر 2001 کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جلتے ہوئے جڑواں میناروں سے دور بھاگنے کے بجائے ان کی طرف بھاگ پڑا تھا۔ اس ایک بات نے اس کی پوری زندگی ہی بدل کر رکھ دی۔

default

یہ امریکہ میں ایک عام سی جگہ پر ایک عام سا گھر ہے۔ گلین کلائن آمادہ ہے کہ نائن الیون کے بارے میں گفتگو کرے لیکن اس کی اہلیہ کیرول صحافیوں سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔ گلین کے بقول کیرول کے اس فیصلے کی ایک وجہ ہے۔ جب کیرول نے اپنا ایک گردہ گلین کے ایک بیمار دوست کو عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا تو کئی ٹی وی نیوز چینلز بار بار فون کر کے وجہ جاننا چاہتے تھے۔ اس پرکیرول نےکہا تھا کہ وہ اس وجہ سے تو اپنا گردہ عطیہ نہیں کرنا چاہتی۔

کیرول کے فیصلے میں میڈیا کی دلچسپی کی وجہ یہ تھی کہ متعلقہ مریض گلین کا ایک ایسا دوست تھا، جو گراؤنڈ زیرو پر فرائض کی انجام دہی کے نتیجے میں بیمار ہوا تھا۔ گلین اور اس کا ساتھی نیو یارک پولیس کے ایک خصوصی یونٹ ESU کے ارکان تھے، جو اس وقت گراؤنڈ زیرو پہنچے تھے، جب ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا جلتا ہوا دوسرا مینار ابھی منہدم نہیں ہوا تھا۔

10 Jahre nach 9/11 – USA - Glen Klein, NYPD Farbe

گلین کلائن زخمیوں کو بچانے کے لیے کئی روز تک گراؤنڈ زیرو پر خدمات انجام دیتا رہا

زہریلی مٹی کے ذرات پھیپھڑوں میں

گلین کلائن نے نائن الیون کے بعد گراؤنڈ زیرو پر نو ماہ تک فرائض انجام دیے، جب تک سارا ملبہ وہاں سے ہٹا نہیں دیا گیا تھا۔ گلین اور اس کے ساتھیوں کو وہاں کام کرنے کے لیے حفاظتی ماسک بھی دیے گئے تھے لیکن یہ ماسک ناکافی ثابت ہوئے اور زہر آلودہ ذرات گلین اور اس کے ساتھیوں کے پھیپھڑوں کے اندر تک پہنچ گئے تھے۔

یوں گلین بھی بیمار پڑ گیا اور اس کا پیٹ بھی خراب رہنے لگا۔ گلین کا کہنا ہے، ’’ہم ایسی جگہو‌ں پر کام کرتے تھے، جن کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہاں کوئی بھی بغیر کسی خطرے کے سانس لے سکتا ہے۔ ایسا نہیں تھا۔‘‘ آج اس سابق پولیس اہلکار کو یقین ہے کہ تب حکومت نے وہاں کام کرنے والوں سے جھوٹ بولا تھا۔ ’’وہ چاہتے تھے کہ گراؤنڈ زیرو جلد از جلد صاف ہو جائے۔ سٹاک مارکیٹ اور دیگر وجوہات کے باعث۔‘‘

دوستوں کی لاحاصل تلاش

گیارہ ستمبر کو گلین کلائن ڈیوٹی پر نہیں تھا لیکن وہ ڈیوٹی کے لیے گراؤنڈ زیرو پہنچ گیا۔ اسے پتہ چلا کہ اس کے 14 ساتھی ملبے کے نیچے دبے ہوئے ہیں۔ وہ سبھی سالہا سال سے اس کے رفقائے کار تھے۔ گلین نے سوچا کہ اگر ملبے کے نیچے سے کوئی زندہ نکلا تو وہ اس کے ساتھی ہی ہوں گے۔ لیکن تب صرف دو پولیس اہلکاورں کے سوا کسی کو بھی زندہ نہیں بچایا جا سکا تھا۔

کوئی ہمت باقی نہ بچی

2003ء میں 20 سالہ پولیس ملازمت کے بعد گلین پینشن پر چلا گیا۔ وہ کراٹے کا ماہر اور میراتھون ایتھلیٹ رہا تھا مگر تب وہ جسمانی اور نفسیاتی دونوں حوالوں سے بہت کمزور ہو چکا تھا۔ بعد میں اسے کئی مسائل نے گھر لیا: بے روزگاری، دمے کا مرض، بیوی سے لڑائیاں، نامناسب نفسیاتی رویہ اور شراب نوشی بھی۔ 2004ء میں نفسیاتی علاج کے دوران ڈاکٹروں نے بتایا کہ اسے PTSD یعنی بہت بڑے دھچکے کے بعد نفسیاتی رویے میں پیدا ہونے والے خلل کا سامنا ہے۔

گلین نے تو ساری عمر ہی زندگی، موت اور بربادی کا کھیل دیکھا تھا تاہم اس بار نقصان ذاتی نوعیت کا ہے۔ اس کے 14 ایسے ساتھی مارے گئے تھے، جو اس کے لیے اہل خانہ کی طرح تھے۔ آج گلین کلائن کی حالت بہتر ہے لیکن اسے ابھی تک کبھی کبھی ڈپریشن کا سامنا رہتا ہے۔

10 Jahre nach 9/11 – USA - Glen Klein, NYPD Flash-Galerie

پینشن یافتہ گلین کلائن ابھی تک ڈپریشن کا شکار رہتا ہے

یاد تو باقی ہے

نائن الیون کے بعد ہنگامی بنیادوں پر امدادی کاموں میں حصہ لینے والے بہت سے کارکنوں کو طبی مسائل کا سامنا ہے۔ ان میں سے ایک ہزار سے زائد انتقال کر چکے ہیں۔ گلین کے مطابق وہ نائن الیون کو کبھی بھلا نہیں سکے گا۔ گرد کے زہریلے ذرات کے باعث اسے کینسر کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اب نائن الیون کے دس سال پورے ہونے کے موقع پر اس کے ذہن میں تمام یادیں پھر سے تازہ ہیں، پہلے دن کے تجربات کی طرح۔

لیکن گلین کو ایک بات کی خوشی ہے۔ اس کے گراؤنڈ زیرو پر فرائض انجام دینے والے جس ساتھی Joe کو اس کی بیوی کیرول نے اپنا گردہ عطیہ کیا تھا، وہ اب مکمل طور پر صحت مند ہے۔ اب جو کو ہر چند روز بعد اپنے گردوں کا dialysis نہیں کروانا پڑتا۔ ’’اب جو معمول کی زندگی گزار سکتا ہے، وہ چھٹیاں منا سکتا ہے، اپنے بچوں کے ساتھ ڈزنی لینڈ جا سکتا ہے،‘‘ یہ کہتے ہوئے گلین کلائن نے ایک ایسا کام کیا جو وہ نائن الیون اور گراؤنڈ زیرو کا ذکر کرتے ہوئے نہیں کرتا: وہ مسکرا دیا۔

تحریر: کرسٹینا بیرگ من / مقبول ملک

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس