1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گراؤنڈ زیرو پر مسجد کی تعمیر کی راہ ہموار

نیویارک میں گراؤنڈ زیرو پر مسجد اور اسلامی مرکز کے قیام کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ دور ہوگئی ہے۔ شہر کے ’لینڈ مارک پریزرویشن کمیشن‘ نے اس مقام کو محفوظ ورثہ قرار دینے کی درخواست رد کر دی ، جہاں مسجد کے قیام کا منصوبہ ہے۔

default

متفقہ طور پر کئے گئے کمیشن کے اس فیصلے کے بعد اس مقام پر پہلے سے موجود عمارت کو منہدم کر کے وہاں مسجد تعمیر کی جا سکتی ہے۔ کمیشن کے تمام نو ارکان نے جب 1850ء میں تعمیر کی گئی اس عمارت کو محفوظ ورثہ قرار دینے سے انکار کرنے کا فیصلہ دیا تو ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔ ہال میں موجود بعض لوگوں نے البتہ ’شیم شیم‘ کے نعرے بھی لگائے۔ ایک پلے کارڈ پر یہ بھی لکھا تھا: ’’تین ہزار لوگوں کے قاتلوں کو سراہا نہ جائے۔‘‘ ایک دوسرے پلے کارڈ پر لکھا تھا: ’’اسلام میں فتوحات کے مقام پر مسجدیں تعمیر کی جاتی ہیں۔‘‘

11. September Gedenken World Trade Center

گراؤنڈ زیرو

مسجد اور اسلامی سینٹر کی تعمیر کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے مغربی اور مسلم دنیا کے درمیان رابطے بڑھیں گے۔ نیو یارک کے میئر مائیکل بلوم بیرگ کا کہنا ہے کہ سوال مذہبی آزادی کا ہے، جو ایک اہم امریکی قدر ہے۔ ’’یہ دنیا کا سب سے آزاد شہر ہے۔ یہی بات نیویارک کو خاص، مختلف اور قوی کرتی ہے۔ ہمارے دروازے سب کے لئے کھلے ہیں، ان لوگوں کے لئے جن کے کچھ خواب ہوں، جو سخت محنت کریں اور جو قوانین کی پابندی کریں۔‘‘

اگر یہ مقام شہری انتظامیہ کی جانب سے محفوظ ورثہ قرار دے دیا جاتا تو وہاں کسی بھی قسم کی نئی تعمیر پر پابندی لگا دی جاتی۔ یہ منصوبہ 9/11 کے بعد کے امریکہ میں اسلام کی جانب برداشت کے رویئے کا امتحان ثابت ہوا ہے۔ کثیرالمنزلہ اسلامی سینٹر کی تعمیر کے منصوبہ سازوں کا ارادہ ہے کہ وہاں ریستوراں، تھیئڑ ہال اور مختلف کھیلوں کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی اور یہ سینٹر تمام شہریوں کے لئے کھلا رہے گا۔

Moschee in Dearborn USA

امریکی ریاست مشیگن کی ایک مسجد

یہ مقام گیارہ ستمبر 2001ء کے دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بننے والے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی جگہ سے کچھ ہی فاصلے پر ہے۔ اسی لئے کچھ امریکی جذباتی طور پر بھی وہاں مسجد کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ امریکہ میں نو سال پہلے کے ان حملوں میں لگ بھگ تین ہزار افراد مارے گئے تھے۔

قرطبہ Initiative سے وابستہ امام فیصل عبدالرؤف کے بقول وہ اور ان کے ساتھی اپنی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ امن، مفاہمت اور شراکت داری کے فروغ کا ایک بہترین موقع ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM