1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گجرات فسادات: مودی کے خلاف عدالتی ثبوت

بھارتی ریاست گجرات کے ایک انٹیلی جنس اہلکار سنجیو بھٹ نے وزیر اعلیٰ نریندر مودی پر گجرات کے فسادات کو جان بوجھ کر نہ روکنے کا الزام عائد کیا ہے۔ فروری 2002ء کی اس خونریزی میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کا خون ہوا تھا۔

default

بھٹ نے بھارتی سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے اپنے ایک حلفیہ بیان میں کہا ہے کہ مودی نے پولیس افسران کی ایک بھری میٹنگ میں کہا تھا، ’’ کافی عرصے سے گجرات کی پولیس نسلی معاملات میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے خلاف ایکشن میں توازن رکھ رہی ہے مگر یہ وقت مسلمانوں کو سبق سکھانے کا ہے تاکہ دوبارہ اس قسم کے واقعات نہ ہوں۔‘‘

یاد رہے کہ گودھرا میں مسلمانوں کے قتل عام سے قبل ایک ٹرین بم دھماکے میں 59 ہندو ہلاک ہوئے تھے، جس کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد کی جاتی ہے۔ وزیر اعلیٰ مودی کے ساتھ پولیس افسران کی یہ میٹنگ اس ٹرین بم دھماکے کے بعد 27 فروری کو ہوئی تھی۔ نریندر سنگھ مودی کٹر ہندو نظریات کے حامل سیاست دان ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے 2001ء سے ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ ہیں۔ ان ہندو مسلم فسادات میں بی جے پی کی حامی تنظیم وشوا ہندو پریشد خاصی سرگرم رہی تھی۔

خود مودی اور بعض سینیئر پولیس افسران کا دعویٰ ہے کہ سنجیو بھٹ، مودی کی رہائش گاہ پر ہوئی اس میٹنگ میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔

Indien Gujarat Ausschreitungen 2002

گجرات کے سب سے بڑے شہر احمد آباد میں ہنگاموں کا ایک منظر، فائل فوٹو

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا نے بھٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ مودی کا موقف تھا کہ ہندووں کو بدلہ لینے کا حق ملنا چاہیے۔ مودی اب تک اپنے خلاف عائد کیے گئے ایسے الزامات کو مسترد کرتے آرہے ہیں۔ سنجیو بھٹ سے پہلے انسانی حقوق کی متعدد تنظیمیں بھی نریندر مودی پر قتل و غارت گری کو جان بوجھ کر نہ روکنے کے الزامات عائد کرچکی ہیں۔

بھٹ کی جانب سے عدالت میں جمع کرایا گیا حلفیہ بیان مودی کے خلاف ٹھوس نوعیت کا پہلا عدالتی ثبوت ہے۔ سنجیو بھٹ گودھرا فسادات کے موقع پر انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔ بھٹ نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا ہے کہ وزیر اعلیٰ مودی کی ہدایات کے بعد پولیس نے فسادات کو روکنے کے سلسلے میں بے دلی سے کام لیا۔ سنجیو بھٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے تحقیقاتی پینل پر بھی غیر جانبدار نہ ہونے اور شواہد کو نظر انداز کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ سنجیو بھٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی جان خطرے میں محسوس کرتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس