گجرات انتخابات میں پاکستانی سازش کی بو، مودی | حالات حاضرہ | DW | 11.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

گجرات انتخابات میں پاکستانی سازش کی بو، مودی

بھارتی وزیر اعظم کے مطابق پاکستان ریاست گجرات کے اسبملی انتخابات میں مداخلت کرنے اور اس کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اختلاف کی جماعت کانگرس پارٹی بھی اس سازش میں اس کے ساتھ ملوث ہے۔

ریاست گجرات میں اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے اور دوسرے مرحلے کے لیے زور و شور سے انتخابی مہم چل رہی ہے، جس میں مودی بار بار پاکستان کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ اتوار کے روز انہوں نے پالن پور حلقے میں ایک عوامی ریلی سے اپنے خطاب میں تو ایسی بات کہہ دی کہ اس پر ہر جانب سے نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’’دلی میں پاکستانی سفارت کاروں کے حکام اور پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کانگریس پارٹی کے سرکردہ رہنما منی شنکر ایّر کی رہائش گاہ پر سابق وزیراعظم منموہن سنگھ اور سابق نائب صدر حامد انصاری کے ساتھ سے ’خفیہ‘ ملاقاتیں کی ہیں، جن کا مقصد گجرات میں بی جے پی کو شکست دینا ہے۔‘‘

نریندر مودی نے ایک اور الزام عائد کیا اور کہا کہ پاکستان کے ایک اعلیٰ سابق فوجی افسر چاہتے ہیں کہ سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل گجرات کے نئے وزیر اعلیٰ بن جائیں کیونکہ احمد پٹیل پاکستان کے لیے بہتر رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج کے سابق افسر نے یہ بات اپنی ایک فیس بک پوسٹ میں کہی ہے، ’کیا یہ سب واقعات شکوک و شبہات پیدا نہیں کرتے؟ کانگریس کو اس کا جواب تو دینا چاہیے۔‘

پاکستان نے بھارتی وزیر اعظم کے اس الزام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے بھارت کی داخلی سیاست میں ہرگز نہ گھسیٹا جائے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’انتخابات اپنی طاقت کی بنیاد پر جیتے جائیں، فرضی اور بالکل بے بنیاد سازشوں کے سہارے نہیں۔‘‘

اطلاعات کے مطابق مودی نے فیس بک پر پاکستان کے جس سابق فوجی افسر کی پوسٹ کا حوالہ دیا ہے وہ ایک طرح سے جعلی ہے اور اس کی تصدیق نہیں ہو پائی ہے کہ جس افسر کا ذکر کیا گیا ہے، یہ اسی کا اکاؤنٹ ہے۔  

مسٹر مودی نے جس خفیہ ملاقات کا ذکر کیا ہے، وہ حقیقت میں منی شکنر ایّر کے گھر پر ایک ڈنر پارٹی تھی، جو پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کے اعزاز میں دی گئی تھی۔ اس میں سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ، سابق نائب صدر حامد انصاری اور بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل دیپک کپور بھی موجود تھے۔ اس پارٹی میں بہت سے ان لوگوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا جو پاکستان میں سفارت کاری کے فرائض انجام دے چکے ہیں اور اس موقع پر انڈیا اور پاکستان کے رشتوں پر تبادلہ خیال بھی ہوا تھا۔

مودی کے ان الزامات پر اپنے سخت رد عمل میں منموہن سنگھ نے سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے  کہ مودی گجرات میں شکست کے خوف سے اس طرح کی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

انھوں نے مودی سے اس پر معافی کا مطالبہ  کرتے ہوئے کہا، ’’سیاسی مفاد کے لیے اس طرح کی جھوٹے پروپیگنڈے سےگہری تکلیف اور سخت ٹھیس پہنچی ہے۔ یہ سب دانستہ طور پر خود مودی ایک ایسے مقصد کے لیے کر رہے ہیں، جس میں وہ پہلے ہی ناکام ہوچکے ہیں۔‘‘

کانگریس پارٹی نے بھی ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جس انداز میں نریندر مودی افواہوں اور جھوٹ پر بھروسہ کرتے ہیں، کیا وہ وزیر اعظم کے عہدے کے لائق ہے؟‘

 پارٹی نے اپنے سخت رد عمل میں مودی سے کہا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ہیں کہ پاکستانی سفارت کار بھارت کی داخلی سیاست میں مداخلت کر رہے ہیں تو دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر سہیل محمود کو فوری طور پر ان کے ملک واپس بھیج دیا جانا چاہیے۔ اس ڈنر پارٹی میں بھارت کے معروف صحافی یپریم شنکر جھا بھی موجود تھے اور ڈی ڈبلیو نے ان سے اس کی حقیقت جاننے کی کوشش کی۔ ڈی ڈبلیو سے بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ یہ ایک نجی دورہ تھا، ’’قصوری صاحب اور منی شنکر ائیر  پرانے دوست ہیں۔ چونکہ بہت سی سرکردہ شخصیات ایک جگہ جمع تھیں اس لیے  میٹنگ میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات کو بہتر بنانے پر بات ہوئی تھی، کشمیر کے مسئلے پر بھی گفتگو ہوئی کہ آخر اسے کیسے حل کیا جا سکتا ہے۔‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ملاقات چھ دسمبر کے روز ہوئی تھی،’’اس میٹنگ میں گجرات کے انتخابات کا تو ذکر تک نہیں ہوا، یہاں تک کہ گجرات یا احمد پٹیل کا نام تک نہیں آيا تھا۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں مسٹر جھا نے کہا کہ گجرات میں انتخابات تعمیر و ترقی کے نام پر لڑے جا رہے تھے لیکن اب جبکہ حالت خراب ہے تو بی جے پی ترقی کے علاوہ ہر متنازعہ ایشو پر بات کرنے لگی ہے، ’’مودی شکست کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ جیتنے کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ ضرورت پڑی تو جنگ تک چھیڑ سکتے ہیں۔‘‘

پریم شنکر جھا کے مطابق مودی نے جس فیس بک پوسٹ کا حوالہ دیا ہے اسے دیکھ کر ہی لگتا ہے کہ یہ کسی کی چال ہے اور اسے کریئٹ کیا گیا ہے۔  نریندر مودی کا تعلق مغربی ریاست گجرات سے ہے، جہاں وہ خود کئی برس تک وزیر اعلیٰ رہے چکے ہیں۔ ان کی پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) گجرات میں گزشتہ 22 برسوں سے اقتدار میں ہے تاہم ان انتحابات میں اسے کانگریس پارٹی سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ کانگریس کی انتخابی مہم پارٹی کے صدر راہل گاندھی نے سنبھال رکھی ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر مودی کو اپنی آبائی ریاست گجرات میں شکست ہوتی ہے تو یہ ان کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہوگا۔ گجرات کے ترقیاتی ماڈل کو ہی پیش کر کے وہ ملک کے وزیر اعظم بنے اور سیاسی طور پر انہیں عروج حاصل ہوا۔ لیکن اب اسی ترقی کے ماڈل پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور گجرات کی عوام اس سے خوش نہیں ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر وہ ہار گئے تو عین ممکن ہے کہ گجرات سے ہی ان کا سیاسی زوال شروع ہوجائے۔ یہی وجہ سے کہ وہ کسی بھی حالت میں انتخابات جیتنے کے لیے ہر ایک سیاسی حربہ استعمال کر رہے ہی۔