1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

گاندھی کی کار کو چھیڑا تو تبادلہ ہوا: کرن بیدی

بھارت کی معروف ریٹائرڈ پولیس افسر کرن بیدی کا کہنا ہے کہ انہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کی ’غلط پارک کی ہوئی گاڑی‘ کو اٹھانے کی پاداش میں تبادلے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت بیدی ایک سماجی کارکن ہیں۔

default

کرن بیدی ایک دستخطی مہم کے دوران

Joseph Beuys-Preis für indische Gefängnisreformerin Kiran Bedi

کرن بیدی نے کہا کہ انہیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ بھارتی وزیر اعظم کی کار کو ہٹانے کے سلسلے میں انہیں اپنے خلاف سخت کارروائی کا سامنا ہوگا، لیکن ان کے بقول انہوں نے پھر بھی وہی کیا جو قانون کے مطابق انہیں صحیح لگا۔’’مجھے معلوم تھا کہ وزیر اعظم اندرا گاندھی کی غلط پارک کی ہوئی کار کو چھیڑنا مہنگا پڑے گا۔ خدشہ یہی تھا کہ میرا تبادلہ کسی دور دراز علاقے میں کیا جائے گا۔ اور آخر کار وہی ہوا بھی، مجھے گوا بھیج دیا گیا۔‘‘

کرن بیدی نے ان خیالات کا اظہار ’بھوپال سکول آف سوشل سائنس‘ میں کیا، جہاں وہ ’سپیکٹرم۔دو ہزار دس‘ کے زیر عنوان ایک پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچی تھیں۔

Indira Gandhi

سابق وزیر اعظم آنجہانی اندرا گاندھی

جب ایک طالب علم نے اُن سے پوچھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کی گاڑی کو ہاتھ لگانے کا باہمت فیصلہ کیسے کیا تھا، تو بیدی نے کہا: ’’میں نے وہی کیا جو صحیح تھا۔ پھر میرے ساتھ وہی ہوا جو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ بہت دور بھیج دیا گیا، لیکن اس کے بعد بھی میں نے پیشہ ورانہ فیصلے ہی کئے۔ قانون کے علم اور اس پر اعتماد کی وجہ سے میں نے زندگی بھر صحیح فیصلے کئے ہیں۔‘‘ بیدی کے اس جواب پر طلبہ اور طالبات نے تالیوں کی گونج میں ان کی بھرپور ستائش کی۔

بیدی کو بھارت کی پہلی اعلیٰ درجے کی خاتون پولیس افسر بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں انہیں ’کرین بیدی‘ کے نام سے بھی جانا پہچانا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے سن 1972ء میں انڈین پولیس سروس IPS جوائن کی اور وہ سن 2007ء میں ریٹائر ہوئیں۔

بیدی مشہور ٹیلی وژن شو ’آپ کی کچہری‘ کی میزبان بھی رہی ہیں۔ ان کی تین کتابیں ’اٹس آلویز پاسیبل‘، ’وَٹ وینٹ رانگ‘ اور ’دی ماٹیویٹنگ بیدی‘ شائع ہو چکی ہیں۔ انہیں بہت سارے سرکاری اور غیر سرکاری انعامات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

رپورٹ: گوہر نذیر گیلانی/ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM