1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گالیانو کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل

معروف فیشن ڈیزائنر جان گالیانو کے خلاف مقدمے کی سماعت مکمل ہو گئی ہے۔ پچاس سالہ گالیانو پر نسل پرستی اور سامیت دشمن کلمات ادا کرنے کے الزامات ہیں۔ انہیں آٹھ ستمبر کو سزا سنائی جائے گی۔

default

جان گالیانو عدالت میں

فرانسیسی دارالحکومت کی ایک عدالت میں ان کے مقدمے کی حتمی سماعت سات گھنٹے تک جاری رہی۔ اس دوران جان گالیانو نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نشے میں دھت تھے اورانہیں کچھ یاد نہیں کہ انہوں نے کیا کہا تھا،’ وہ میرے خیالات نہیں ہیں۔ میں ایسے خیالات پر یقین نہیں رکھتا ہوں‘۔

عدالت کے سامنے گالیانو نے کہا،’ میں اپنے کہے پر معذرت خواہ ہوں۔ میں تمام انسانوں، مذاہب، عقیدوں اور نسلوں کا احترام کرتا ہوں‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ شراب کے عادی رہے ہیں اور نفسیاتی مسائل کی وجہ سے کبھی کبھار ہوش کھو بیٹھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس کا علاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب بہتر محسوس کر رہے ہیں۔

John Galliano

جان گالیانو موجودہ دور کے بہترین فیشن ڈیزائنر تصور کیے جاتے ہیں

لندن سے تعلق رکھنے والے گالیانو نے عدالت کو بتایا کہ وہ دماغی طور پر صحت مند نہیں ہیں اور شراب، نیند کی گولیاں اور ذہنی سکون کی ادویات کے عادی رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب بھی وہ ایک ڈے کیئر میں ہیں۔ رواں برس فروری میں ایسی ویڈیوز سامنے آئی تھیں، جن میں گالیانو پیرس کے ایک بار میں مبینہ طور پر ہٹلر سے محبت کا اقرار کرتے ہیں اور نسل پرستانہ کلمات ادا کرتے ہیں۔ ان ویڈیوز کے منظرعام پر آنے کے بعد معروف فیشن کمپنی Christian Dior نے انہیں کری ایٹیو ڈائریکٹر کے عہدے سے فارغ کر دیا تھا اور فرانس کی ایک عدالت نے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی تھی۔

موجودہ دور کے بہترین فیشن ڈیزائنر جان گالیانو پر الزامات ثابت ہونے کی صورت میں انہیں چھ ماہ کی قید کے علاوہ 22 ہزار پانچ سو یورو کا جرمانہ سنایا جا سکتا ہے۔ وکیل استغاثہ Anne de Fontette نے گالیانو پر دس ہزار یورو جرمانہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم انہوں نے سزائے قید کا تذکرہ نہیں کیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس