1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’گائے کی حفاظت یا جرائم کا ارتکاب؟: مودی بھی بول اُٹھے

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گائے کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے مذہب کی آڑ میں جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔

اس بارے میں مودی نے ہفتے کے روز ایک خطاب میں گائے کی حفاظت کے ’خُدائی فوجداروں‘ کی طرف سے حملوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کے خلاف فوری طور سے ایکشن لیا جانا چاہیے، جو مذہب کی آڑ میں جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

DW.COM

ناقدین کی رائے میں ہندو مذہب میں مقدس تصور کی جانے والی گائے کی حفاظت کے بہانے قتل و غارت کا بازار 2014 ء میں نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے بہت زیادہ گرم ہو گیا ہے۔

گزشتہ ماہ مغربی بھارت سے سینکڑوں افراد کو اُس وقت گرفتار کیا گیا جب گجرات میں مری ہوئی گائے کی کھال اتارنے والے چار دلت نوجوانوں کو بُری طرح زدو کوب کیا گیا تھا۔

ان دلتوں کی پٹائی کے بعد اس دہشت گردانہ کارروائی کے خلاف احتجاج کا سلسلہ سری نگر تک پہنچا۔ جہاں دلت سماج کے لوگ مری ہوئی گائے ٹرکوں میں بھر کرکلکٹردفاتر پہنچ گئے، اور وہاں ہندوؤں کے عقیدے کے تحت ’ماتا‘ کہلانے والی گائے کے تحفظ کی آڑ میں ہونے والے فرقہ ورانہ جھگڑوں کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔

دلت نوجوانوں کو پیٹنے کی مخالفت کو لے کر احتجاج کا یہ سلسلہ پورے گجرات میں پھیل چکا ہے۔ لوگ مری ہوئی گائے کو سرکاری حکام کے دفاتر پہنچا رہے ہیں۔

اس تناظر میں ہفتے کے روز نریندر مودی کے اس بارے میں بیانات غیر معولی اہمیت کے حامل ہیں جن پر مذہبی اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ثابت ہونے کے الزامات کا سامنا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اس حساس موضوع پر پہلی بار کوئی بیان دیا ہے۔

مودی نے بھارتی عوام سے ان واقعات میں ملوث ہونے کے قصوروار افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا اور کہا ہے کہ ریاستی حکومت کو گائے کُشی کا الزام عائد کر کے دیگر باشندوں کو مارنے پیٹنے اور ہراساں کرنے والوں کی تحقیقات اور مواخذے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

Indien Neu Delhi Narendra Modi , Ministerpräsident

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گائے کی حفاظت کا دعویٰ کرنے والے مذہب کی آڑ میں جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں

بھارتی وزیر اعظم نے پیش گوئی کی ہے کہ معاشرے میں اس طرح کی بدامنی پھیلانے والے افراد میں سے 70 تا 80 فیصد وہ ہیں جو سماج مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور خود کو بچانے کے لیے گائے محافظ ہونے کا بہانا کر رہے ہیں۔

اُدھر شہریوں کے حقوق اور تحفظ پر کڑی نظر رکھنے والے گروپوں کی طرف سے اس معاملے کو تیزی سے اُٹھایا جا رہا ہے اور ان کے سرکردہ عناصر کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اور مودی کے دور حکومت میں گائے کے تحفظ کے نام پر اقلیتوں اور نچلی ذات والوں کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کو شہ ملی ہے۔

یاد رہے کہ مودی نے اس بارے میں بیانات ایسے وقت پر دیے ہیں جب اترپردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستوں میں گائے کے نام پر مسلمانوں اور دلت یعنی پسماندہ طبقے کے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔