1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

گائیکی عمر رسیدہ افراد کے لیے صحت بخش

اِنگے شاید ہی کبھی اوپیرا میں مرکزی گلوکار کی حیثیت حاصل کر سکیں مگر پھر بھی وہ ہر ہفتے اوپیرا کی ریہرسلز میں شرکت ضرور کرتی ہیں۔ اوپیرا کے اس کوائر میں آدھے سے زیادہ گائیک چالیس اور ساٹھ برس کے درمیان کی عمروں کے ہیں۔

default

سڑسٹھ سالہ اِنگے کا کہنا ہے، ’’میں اسکول کے زمانے سے گا رہی ہوں۔ یہ میرے لیے سکون کا سبب ہے اور میں اس کے ذریعے روز مرہ کی زندگی سے فرار حاصل کر سکتی ہوں۔‘‘

آپ پچاس سال کے ہوں یا ستّر کے، چاہے آپ بہت عمر رسیدہ ہوں۔ گانا ایسا کام ہے جو آپ کسی بھی عمر میں کر سکتے ہیں۔ ماہرین کی رائے ہے کہ گانے سے آپ کی یاداشت اور سننے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے۔

پینسٹھ سالہ الزابتھ بینگٹسن کہتی ہیں، ’’اگر آپ اپنی آواز کی صوتیت پر توجہ مرکوز کریں تو آپ ذہنی طور پر تندرست رہ سکتے ہیں کیونکہ یہ عمل آپ کے دماغ کو حرکت میں رکھتا ہے۔‘‘ الزابتھ تین برس کی عمر سے گا رہی ہیں۔ وہ ہیمبرگ یونیورسٹی میں موسیقی اور تھیٹر کی تعلیم بھی دیتی رہی ہیں۔ سن انیس سو نوے سے وہ ’عمر رسیدہ‘ آوازوں پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

Bocksprünge des Kehlkopfs - Stimmakrobat David Moss

ماہرین کی رائے ہے کہ گانے سے آپ کی یاداشت اور سننے کی صلاحیت بہتر ہوتی ہے

مگر ایک مخصوص سُر کو گانا ایک مشکل کام ہے، اور جس طرح انسانوں کے جسم کے دیگر حصے بڑھاپے کا شکار ہو رہے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح گلا بھی عمر رسیدہ ہو رہا ہوتا ہے۔ الزابتھ بینگٹسن کہتی ہیں، ’’ایک پچپن سالہ شخص پچیس سال کے شخص کے مقابلے میں کم سانس لیتا ہے۔ عمر رسیدہ گائیک ایک سُر کو بہت دیر تک پکڑ کر نہیں رکھ سکتے اور ان کو اونچے سُروں کو گانے میں بھی دقت ہوتی ہے۔ خواتین کی آوازیں بھی خاصی کمزور ہو جاتی ہیں۔‘‘

تاہم ایک عمر رسیدہ شخص ان مسائل پر ریاض کے ذریعے کچھ حد تک قابو پا سکتا ہے۔ برے سُروں کو کثرت ریاض سے آپ بہتر بنا سکتے ہیں۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اس حوالے سے آپ کو ایک معمول بنانا چاہیے۔ عمر رسیدہ افراد جدید موسیقی اور نئی دھنوں کو سیکھنے سے ہچکچاتے ہیں لہٰذا ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی دھنیں ان عمر رسیدہ افراد کے لیے اس طرح تیار کی جانی چاہییں کہ وہ ان کو دلچسپ لگیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ عمر رسیدہ گلوکاروں کے لیے گائیکی موسیقی سے زیادہ گروپ کے دوسرے افراد سے جڑنے کا ایک عمل بھی ہے۔ یہ ان کے دماغ کو صاف رکھتی ہے اور اس کے ذریعے وہ درد اور تکلیف جیسے جذبات پر قابو بھی پا سکتے ہیں۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM