1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیپٹن صفدر کا نیا متنازعہ بیان، بات ممتاز قادری کے جنازے کی

پاکستان میں اپنے متنازعہ بیانات کی وجہ سے مشہور سابق وزیر اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ایک بار پھر ملکی سماجی حلقوں میں اور سوشل میڈیا پر زیر بحث ہیں۔ اس کی وجہ ان کا ایک نیا متنازعہ بیان بنا۔

default

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے سسر اور سابق پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف اس وقت ایک بڑی ریلی کے ساتھ اسلام آباد سے لاہور آ رہے ہیں

منگل آٹھ اگست کو پاکستانی پارلیمان  کے ایوان زیریں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کیپٹن صفدر نے کہا کہ اگر لوگ عدالتوں کے فیصلوں کو مانتے تولاکھوں افراد ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت نہ کرتے۔ ممتاز قادری نے چند برس قبل پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو اسلام آباد کی ایک مشہور مارکیٹ میں اس وقت قتل کر دیا تھا، جب وہ انہی کی حفاظت پر مامور تھا۔ ممتاز قادری کا تعلق پنجاب پولیس سے تھا۔
قومی اسمبلی میں کیپٹن صفدر کے اس بیان نے پاکستان کے سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی اور کئی افراد نے ان کے اس بیان پر تبصرے بھی کیے ہیں۔ سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سر کردہ سماجی کارکن نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کہا، ’’نواز شریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نواز شریف کی ریلی کا جواز پیش کرنے کے لیے ممتاز قادری کے جنازے کی مثال دے رہے ہیں۔ یہ لوگ قوم کا کیا بھلا کریں گے؟‘‘

دو روزہ ریلی کی قیادت کرتے ہوئے لاہور جاؤں گا، نواز شریف

اسلام آباد میں نواز شریف کا استقبال

پاکستان کی نئی وفاقی کابینہ، فوج کے ناقدین نمایاں

کچھ صارفین نے سوشل میڈیا پر کیپٹن صفدرکے حوالے سے دائیں بازو کے ایک پاکستانی اخبار روزنامہ ’امت‘ کا وہ تراشہ بھی لگایا، جس میں یہ خبر تھی کہ کیپٹن صفدر ممتاز قادری کی قبر پر گئے تھے اور انہوں نے قادری کے لواحقین سے معافی بھی طلب کی تھی لیکن قادری کے لواحقین نے معافی دینے سے انکار کر دیا تھا۔ روزنامہ ’امت‘ میں یہ خبر پانچ اگست کو شائع ہوئی تھی۔

Pakistan Rawalpindi Beerdigung Trauermarsch Mumtaz Qadri

کیپٹن صفدر نے کہا کہ ممتاز قادری کے جنازے، تصویر، میں بھی لاکھوں افراد نے شرکت کی تھی

کیپٹن صفدر ماضی میں بھی ممتاز قادری کے حق میں بولتے رہے ہیں۔ کئی اہل علم ان کے اس بیان کو اس مذہبی رجعت پسندی کا عکاس قراردے رہے ہیں، جس نے جنرل ضیا کے دور میں فروغ پایا تھا۔ ممتاز دانشور ڈاکٹر مہدی حسن نے کیپٹن صفدر کے اس بیان پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم جناح کے پاکستان میں نہیں ہیں بلکہ فکری حوالے سے یہ جنرل ضیا کا پاکستان ہے، جہاں ہر چیز کو مذہبی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ہم مذہب کی روح کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ نمائشی طور پر مذہبی بنتے ہیں۔ کیپٹن صفدر کا بیان بھی ہمارے اسی رجحان کا عکاس ہے، جس کے تحت ہم ہر معاملے میں بغیر کسی وجہ کے مذہب کو گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ کلچر بن گیا ہے کہ جو عدالتی فیصلہ ہمارے خلاف ہو، اس کو نہ مانو۔ یہ بیان اسی ہٹ دھرمی اور ضد کا بھی عکاس ہے۔‘‘

پاکستان کی موروثی سیاست بھی ’گیم آف تھرونز‘

عبوری پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کون؟

نواز شریف کی نااہلی کے بعد مستقبل کا پارٹی منظر، مشاورت جاری

لاہور سے تعلق رکھنے والے فاروق طارق نے، جنہوں نے مذہبی انتہا پسندی پر کئی کتابیں اور مضامین لکھے ہیں، اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ ایک انتہائی شرمناک اور قابل مذمت بیان ہے۔ اس کا مقصد دائیں بازو کے ووٹروں کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ لیکن کیپٹن صفدر اس حمایت کے چکر میں ملک کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں کیونکہ اس طرح کے بیانات سے مذہبی انتہا پسند قوتوں کو طاقت ملتی ہے۔ آج بھی ہمارے چار جوان انہی مذہبی جنونیوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ہیں۔ ان کے گھر والے کیا سوچیں گے، جب کیپٹن صفدر جیسے لوگ اس طرح کے بیانات دیں گے۔‘‘

Pakistan Maryam Nawaz Sharif Tochter des Ex-Regierungschefs

کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نواز شریف کی بیٹی مریم نواز (تصویر میں) کے شوہر ہیں

فاروق طارق نے کہا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر خود بھی ایک مذہبی انتہا پسند شخص ہیں، ’’اس شخص کے خیالات میں بہت شدت پسندی ہے۔ اس نے اعلان کرتے ہوئے ممتاز قادری کو ہیرو قرار دیا تھا اور اس کے جنازے میں شرکت بھی کی تھی۔ بعد میں یہ قادری کی قبر پر بھی گیا تھا۔ لیکن ایسے بیانات سے مسلم لیگ نون کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ مسلم لیگ نون کو ایسے افراد کو اپنی صفوں سے نکال دینا چاہیے۔‘‘

پاناما سے اقامہ تک، نواز شریف کا احتساب: تبصرہ

پاناما کیس، آغاز سے اختتام تک، کب کیا ہوا؟

معروف سماجی کارکن فرزانہ باری نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’انصاف کو دیکھنے کا لوگوں کا اپنا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے، جس میں معاشرتی اثرات اور رجحانات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی خیالات کا بڑا عمل دخل ہے۔ تو لوگ عدالتی فیصلوں کو بھی انہی نظریاتی بنیادوں پر دیکھ رہے ہیں، جو اپنی اساس میں محض مذہبی رجحانات ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں فرزانہ باری نے کہا، ’’ممتاز قادری اور نواز شریف کے مقدمات مختلف نوعیت کے تھے۔ ممتاز قادری نے نہ صرف ایک گورنر کو قتل کیا تھا بلکہ اس کا اعتراف بھی کیا تھا اور کئی لوگ اس بات کے گواہ بھی ہیں۔ دوسری طرف نواز شریف کا معاملہ مالیاتی نوعیت کا ہے۔ کیپٹن صفدر نے ایسا بیان دے کر ان دو مقدمات کو بلا وجہ آپس میں گڈ مڈ کر دیا ہے۔‘‘

DW.COM