1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کیپٹن روح اللہ کے لیے تمغہء جرات

پاکستانی فوج کے سربراہ نے کیپٹن روح اللہ کو کوئٹہ پولیس اکیڈمی پر حملے کے دوران انسداد دہشت گردی آپریشن میں ان کی جرات اور بہادری کے اعتراف میں تمغہء جرات سے نوازا ہے۔ کیپٹن روح اللہ اس فوجی آپریشن کے دوران مارے گئے تھے۔

گزشتہ روز پاکستانی فوج کے شعبہء تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ نے کوئٹہ میں پولیس اکیڈمی میں دہشت گردوں کے حملے کے دوران انسدادِ دہشت گردی آپریشن میں جرات اور بہادری کے اعتراف میں کیپٹن روح اللہ کو تمغہء جرات اور نائب صوبیدار محمد علی کو تمغہء بسالت سے نوازا ہے۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق  ان دونوں فوجیوں نے ایک خود کش بمبار کو ہلاک کیا اور ایک دوسرے بمبار کو روکے رکھا جس کی وجہ سے کئی کیڈٹس کی زندگی بچ گئی۔

 

سوشل میڈیا پر کئی افراد کیپٹن روح اللہ کی تصاویر شئیر کر رہے ہیں اور ان کی بہادری پر انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ روح اللہ کے ایک ساتھی نے اپنی فیس بک پوسٹ پر لکھا، ’’تم نے بہت ہی جرات کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کیا اور ہم سب کے سر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔‘‘

روح اللہ پاکستانی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ کے کمانڈو تھے اور پشاور کے آرمی پبلک اسکول، چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی اور حال ہی میں وارسک کرسچن کالونی میں حملوں کے دوران فوجی آپریشن کا بھی حصہ رہے تھے۔ روح اللہ کے بھائی نے انگریزی زبان کے پاکستانی اخبار ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا، ’’ہماری والدہ روح اللہ کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھیں لیکن روح اللہ کے بجائے ان کی لاش گھر لائی گئی ہے۔‘‘

دوسری جانب سوشل میڈیا پر فوجی کپتان کو تمغہء جرات دینے پر تنقید بھی دیکھی جا رہی ہے، جہاں ناقد صارفین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے درجنوں افراد کو اس طرح فراموش کر کے ایک فوجی کو یہ اعزاز دینا، ایک امتیازی رویے کا آئینہ دار ہے۔