1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کیون اسپیسی پر ’ہاؤس آف کارڈر‘ کا دروازہ بند

جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات کے بعد نہ تو ان کا آسکر ایوارڈ اور نا ہی ہم جنس پرست ہونے کو تسلیم کرنا، ان کے کام آیا۔ نیٹ فلیکس نے ان الزامات کے بعد معروف اداکار کیون اسپسی کو ’ہاؤس آف کارڈز‘ سیریز سے نکال دیا ہے۔

نیٹ فلیکس کمپنی نے جمعہ تین نومبر کی شب اپنے بیان میں کہا کہ آسکر ایوارڈ یافتہ اداکار کیون اسپیسی کو ’ہاؤس آف کارڈز‘ نامی مشہور ڈرامہ سیریز میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ اس اداکار سے تمام تر دیگر معاملات بھی ختم کر دیے گئے ہیں، ’’نیٹ فلیکس کا ادارہ ’ہاؤس آف کارڈز‘ کی کسی مزید ایسی قسط کی پروڈکشن میں شامل نہیں ہو گا، جس میں اسپیسی کا کاسٹ کیا جائے گا‘‘۔

اٹھاون سالہ اسپیسی کو پانچوں سیزن میں اس ڈرامے میں ان کے مرکزی کردار کی وجہ سے بہترین اداکار کے ایوارڈ کے لیے نامزد بھی کیا گیا لیکن وہ کبھی یہ اعزاز حاصل نہیں کر سکے۔ نیٹ فلیکس نے کیون اسپیسی کی ’Gore‘ نامی فلم بھی ریلیز کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ’ہاؤس آف کارڈز‘ ڈرامے کی ٹیم میں شامل  اور حصہ رہنے والے آٹھ افراد نےکیون اسپیسی پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

اسپیسی پر ابھی تک نہ تو فرد جرم عائد کی گئی ہے اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا گیا ہے۔ ہالی وڈ اداکار کے ایک پریس ایجنٹ نے بتایاکہ اسپیسی اس تناظر میں ابھی سوچ و بچار کر رہے ہیں۔

اوباما نہیں ڈرامہ

ایمی ایوارڈز، میلہ ’گیم آف تھرونز‘ نے لوٹ لیا

ایمی ایوارڈز: ’میڈ مین‘ بہترین ڈرامہ قرار

اس سے قبل اداکار انتھونی راپ بیان دے چکے ہیں کہ اسپیسی  1986ء میں جنسی طور پر ان کی جانب مائل ہوئے تھے۔ اس وقت راپ کی عمر چودہ برس تھی۔ اس پر کیون اسپیسی کے بقول انہیں بہرحال یہ واقعہ یاد نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ اگر نشے کی حالت میں ایسا کچھ ہوا تھا تو وہ معذرت خواہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی اسپیسی کے خلاف اسی نوعیت کے کئی الزامات کے تحت تفتیش جاری ہے۔

DW.COM