1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیوبا کے وزیر دفاع ریگیرو چل بسے

کیوبا کے وزیر دفاع اور صدر راؤل کاسترو کے دست راست خولیو کاساس ریگیرو حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 75 برس تھی۔

default

ریگیرو (بائیں) راؤل کاسترو (دائیں) کے ساتھ

ہوانا حکومت نے خولیو کاساس ریگیرو کی وفات پر تین روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا ہے۔ راؤل کاسترو اپنے جرنیلوں پر سختی برتنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی ریگیرو کی نگرانی نہیں کرنی پڑی۔ کاسترو کا کہنا ہے: ’’وہ مٹھی بند آدمی تھا، اسی لیے اچھا بزنس مین تھا۔‘‘

ریگیرو کی موت پر کمیونسٹ پارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے: ’’انہیں اپنی پارٹی، عوام، انقلاب اور اپنے کمانڈر اِن چیف راؤل کاسترو سے وفاداری کے لیے جانا جاتا تھا۔‘‘

بیان میں مزید کہا گیا: ’’انہوں نے (کیوبا کے) دفاع کو مستحکم بنانے کے لیے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔‘‘

ریگیرو سے پہلے وزیر دفاع کا عہدہ فیدل کاسترو کے بھائی راؤل کاسترو کے پاس تھا، جن کا وہ دستِ راست قرار دیے جاتے تھے۔  وہ کیوبا کی طاقتور ترین شخصیات میں سے ایک تھے، گو کہ ان کا اثر و رسوخ پس منظر میں رہا۔

دو ہزار آٹھ میں راؤل کاسترو نے صدارت کا منصب سنبھالنے کے لیے وزارت خارجہ کا قلمدان چھوڑا تو یہ ذمہ داری ریگیرو کو دے دی گئی۔

وہ کیوبا کے پانچ نائب صدور میں سے ایک تھے۔ ریگیرو کیوبا کے اُس انقلاب کی لڑائی میں شامل رہے جس کے نتیجے میں 1959ء میں فدل کاسترو برسرِ اقتدار میں آئے تھے۔

Flash-Galerie Fidel Castro

فیدل کاسترو

مرحوم ریگیرو بائیس برس کی عمر میں کاسترو کے باغی یونٹ میں شامل ہوئے۔ انہوں نے ایلیٹ سوویت ملٹری اداروں میں تعلیم پائی۔ سوویت آلات کی عدم دستیابی سے نمٹنے کے لیے انہوں نے مقامی صنعت کے قیام میں مدد کی، جو محدود پیمانے پر وجود میں آئی۔ وہ فارمنگ کمپنیوں کے قیام میں بھی سرگرم رہے، جس کا مقصد کیوبا کی فوج کو خوراک کی فراہمی یقینی بنانا تھا۔

ریگیرو نے Gaviota نامی کمپنی کو کیوبا کے سب سے بڑے سیاحتی ادارے میں بدل دیا، جو متعدد ہوٹلوں، ریستورانوں، ریٹیل شاپس اور ایئرلائنوں کی ملکیت رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ کیوبا میں موجودہ حکومت کے استحکام میں مسلح افواج کو انتہائی اہمیت حاصل ہے۔

 

رپورٹ: ندیم گِل / خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس