1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کیوبا کے ساتھ ایک نئی شروعات چاہتے ہیں: امریکی صدر اوباما

امریکی براعظموں کی سربراہی کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے کیوبا کے ساتھ ایک نئی شروعات پر زور دیا ہے۔ اوباما نے کہا کہ امریکہ کیوبا کے ساتھ مختلف معاملات پر مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

default

امریکی صدر اوباما

صدر اوباما نے OAS سربراہی کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ ، کیوبا کے ساتھ ایک نئی شروعات چاہتا ہے، اوباما نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ امریکہ اور کیوبا کے مابین تعلقات میں ایک یہ نئی شروعات کوئی آسان کام نہیں کیونکہ عشروں پر محیط بے اعتمادی کی فضا کو ختم کرنے کے لئے وقت درکار ہوگا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ایک نئے دن کے لئے دونوں ممالک ہی اہم اقدامات کر سکتے ہیں ۔

Gipfeltreffen der Organisation Amerikanischer Staaten 2009

OAS کی سربراہی کانفرنس سترہ تا اٹھارہ اپریل ٹرینیڈاڈ کے شہر پورٹ آف اسپین میں منعقد کی جا رہی ہے

واضح رہے کہ کیوبا شمالی اور جنوبی امریکہ کا وہ واحد ملک ہے جہاں جمہوریت نہیں ہے اسی لئے کیوبا سن اُنیس سو باسٹھ سے OAS کی سربراہی کانفرنس میں شرکت کے لئے مدعو نہیں کیا جاتا۔

تاہم امریکی صدر نے تقریبا نصف صدی پر محیط کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کیوبا کو نہ صرف مذاکرات کی دعوت دی بلکہ کیوبا پر عائد امریکی پابندیوں کو نرم کرنے کی ہدایت جاری کی ہیں۔ سرد جنگ کے دوران واشنگٹن اور ہوانا کے مابین تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

سربراہی کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کے سربراہان نے بھی کیوبا پر سے پابندیاں اٹھانے کی عمل کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کیوبا کو علاقائی سطح پر ساتھ ملانے کا عمل بہتر ثابت ہوگا۔

تین روزہ کانفرنس کے پہلے دن اوبامانے کہا کہ ان کی انتظامیہ کیوبا کے ساتھ کئی معاملات پر مذاکرات کرنا چاہتی ہے جن میں منیشیات، مہاجرت، اقتصادی معاملات ، انسانی حقوق، آزادی تقریر، اور جمہوری اصلاحات شامل ہیں ۔ اوباما نے زور دیا کہ وہ صرف بات برائے بات نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اور کیوبا کے تعلقات کو ایک نیا رخ دیا جائے۔

50 Jahre Revolution Kuba Raul Castro

کیوبا کے صدر راول کاسترو نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر رضا مندی کا اظہار کیا ہے

اوباما کی طرف سے یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایک روز قبل کیوبا کے صدر راول کاسترو نے سبھی معاملات پر امریکہ سے مذاکرات کرنے پر رضا مندی کااظہار کیا۔تاہم کاسترو نے کہا کہ مذاکرات کا عمل باہمی احترام پر مبنی ہونا چاہئے۔

دوسری طرف اوباما نے کہا کہ یہ پارٹنر شپ اُسی وقت پنپ سکے گی جب تمام ممالک ایک نئی احساس ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سب کو ہی ایک دوسرے کے ساتھ باہمی مفادات کے حصول کے لئے تجدید کی ضرورت ہے۔ اوباما نے کہا اگرچہ امریکہ کی طرف سے ماضی میں کئے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا تام اب امریکہ بدل چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف امریکہ کی ہی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ تبدیل ہو بلکہ اوباما نے OAS کانفرنس میں شامل تمام سربراہان مملکت کو مخاطب ہو کر کہا کہ اچھے مستقبل کے لئے سبھی کو بدلنا پڑے گا۔

سمٹ کے پہلے دن کے اختتام پر کیوبا کے قریبی دوست ملک وینزویلا کے صدر اوگو شاویز نے امریکی صدر اوباما سے ہاتھ ملا تے ہوئے کہا کہ انہوں نے آٹھ سال قبل سابق امریکی صدر بش سے ہاتھ ملایا تھا ۔ تاہم شاویز نے کہا کہ وہ اوباما کے دوست بننا چاہتے ہیں۔

کیریبئین کی ریاست ٹرینیڈاڈ کے شہر پورٹ آف اسپین میں اتوار کے روز تک جاری رہنے والی امریکی براعظموں کی سربراہی کانفرنس کے مرکزی موضوعات میں معیشی بحالی، توانائی کے وسائل اور سلامتی کی صورت حال سب سے اہم ہیں۔