1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کینیڈی کے قتل سے متعلق ہزاروں دستاویزات عام کر دی گئیں

سابق امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے قتل سے متعلق تقریباً 2900 دستاویزات عام کر دی گئی ہیں۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایف بی آئی اور سی آئی اے کے مشوروں کی روشنی میں چند فائلیں آئندہ بھی خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکا کی نیشنل آرکائیو نے سابق صدر کینیڈی کے قتل سے متعلق یہ خفیہ دستاویزات ایک ایسے موقع پر جاری کی ہیں، جب ان کی اشاعت پر قانونی پابندی کی مدت ختم ہونے والی تھی۔ ان دستاویزات کے عام ہونے سے 1963ء میں شہر ڈیلاس میں کینیڈی پر جان لیوا فائرنگ کے اُس واقعے کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئیں گے، جس میں لی ہاروی اوسوالڈ نامی شخص ملوث تھا۔ سابق امریکی فوجی اوسوالڈ نے اس مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خود کو گولی مار لی تھی۔

آج بھی بہت سے امریکیوں کا خیال ہے کہ اس کہانی کے بہت سے حصوں کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے کینیڈی  کے  قتل کی سازش کے تانے بانے امریکی خفیہ اداروں کے آلہ کاروں، فوج یا پھر اطالوی مافیا سے بھی جوڑے جاتے رہے ہیں۔

جمعرات ستائیس اکتوبر کو شائع کی جانے والی ان دستاویزات میں اس واقعے کے بعد یعنی چوبیس نومبر 1963ء کو جے ایڈگر ہوور کی بات چیت بھی شامل ہے، جو اس وقت وفاقی تفتیشی ادارے (ایف بی آئی) کے سربراہ تھے۔ ایف بی آئی نے  اوسوالڈ کی ہلاکت سے ایک رات قبل ہی اس کی زندگی کو لاحق خطرات کے بارے میں پولیس کو مطلع کیا تھا۔ تاہم ہوور کے بقول پولیس نے ان کی اس تنبیہ پر کان نہیں دھرے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے2891 دستاویزات کی اشاعت کی منظوری دے دی تاہم ان کے علاوہ سو ایسی دستاویزات بھی ہیں، جنہیں آئندہ بھی خفیہ ہی رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ٹرمپ نے وفاقی اداروں کو حکم دیا ہے کہ وہ اگلے چھ کے دوران ان دستاویزات پر نظر ثانی کریں، جنہیں خفیہ رکھا گیا ہے۔

اس پیش رفت پر وکی لیکس نے اعلان کیا ہے کہ جو بھی کینیڈی کے قتل کے حوالے سے اب تک غیر شائع شدہ مواد اس ویب سائٹ  کو مہیا کرے گا، اسے ایک لاکھ ڈالر کا انعام دیا جائے گا۔ وکی لیکس کے سربراہ جولیان آسانج نے اس تاخیر کو ناقابل معافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انعامی رقم اُسی صورت میں دی جائے گی کہ ان دستاویزات سے قانون کی خلاف ورزی، نا اہلی یا انتظامی غلطیاں ثابت ہوتی ہوں۔

DW.COM